قومی زبان

وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کو

وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کو منہ دکھانے کی نہ پھر جا رہے آئینے کو غم نہیں محفل جاناں میں نہیں صدر نشیں اس نے سینے میں تو جاوے ہے مرے کینے کو اے صنم تجھ کو جو پہنچا وہ خدا کو پہنچا زینہ عرش سمجھتا ہوں ترے زینے کو شال‌ شاہی سے زیادہ ہے مجھے کملی‌ٔ فقر جانتا پشم برابر ہوں ...

مزید پڑھیے

غیروں میں حنا وہ مل رہا ہے

غیروں میں حنا وہ مل رہا ہے نیرنگ جہاں بدل رہا ہے کھٹکا ہے یہ نشتر مژگاں کا رگ رگ سے جو دم نکل رہا ہے وصف لب سرخ لکھ رہا ہوں یاقوت قلم اگل رہا ہے آبادیٔ دل ہے داغ سوزاں اس گھر میں چراغ جل رہا ہے ہے دل کی تڑپ سے چشم پر نم پارے کا کنواں ابل رہا ہے دل غم سے نہ کس طرح ہو ٹھنڈا پنکھا دم ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئی

ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئی وہ گھر ہوا خراب جہاں پھوٹ پڑ گئی وہ زار ہوں جو سانس دم مرگ اکھڑ گئی میت کنار گور میں کانٹے سی گڑ گئی ڈھونڈھو چراغ لے کے ضعیفوں گلی گلی غم ہو گیا شباب جوانی بچھڑ گئی پھولوں پھلوں میں کیا چمن روزگار میں میں وہ نہال سبز ہوں گھن جس کی جڑ گئی چاہا ...

مزید پڑھیے

عشق میں زور عمر بھر مارا

عشق میں زور عمر بھر مارا عاقبت کوہ کن نے سر مارا نالۂ دل نے خوشنوائی میں طعنۂ صوت ہزار پر مارا زخم پنہاں دل و جگر میں نہیں نہ کھلا کیا ادھر ادھر مارا مجھ کو گھڑیالیوں نے ہجر کی رات بے‌ بجاے ہوئے گجر مارا دہنے بائیں ملک ہیں دیکھ نہ لیں اس لیے دیکھ بھال کر مارا سادگی پر مٹے ...

مزید پڑھیے

جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہے

جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہے ہو چکا درماں مسیحا آپ ہی درماندہ ہے جیتے جی کیا مر گئے پر بھی وبال دوش ہے جو مری میت اٹھاتا ہے وہ دیتا کاندھا ہے تا قیامت گردش تقدیر جانے کی نہیں اپنی برگشتہ نصیبی نے وہ چرخا ناندہ ہے ہے عیاں ہر شے سے دکھلائی نہیں دیتا مگر واہ رے ڈھٹ ...

مزید پڑھیے

ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگ

ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگ آتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگ گر غیر ساتھ سایہ کے صورت نہ تھا تو کیوں مثل صبا چمن سے سدھارے الگ تھلگ بلبل وہ ہوں کہ فصل کے پہلے ہی باغباں لیتا ہے باغ جس کا اجارے الگ تھلگ دام بلا میں پھنستے ہیں آپ آ کے سیکڑوں وہ بت ہزار بال سنوارے الگ تھلگ اے ...

مزید پڑھیے

ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کر

ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کر حرم سے بت خانے تک تو پہنچا خدا خدا کر خدا خدا کر لحد میں کیا ذکر روشنی کا سر لحد بھی جو رحم کھا کر جلا کیا جب چراغ کوئی ہوا نے ٹھنڈا کیا بجھا کر نشان برباد گان عالم جو پوچھے صحرا میں ہم نے جا کر صبا سے اڑ اڑ کے گرد بیٹھی بگولے ...

مزید پڑھیے

اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرف

اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرف میرا ترے سوا نہیں دھیاں اور کی طرف ناوک مجھے رقیب کو برچھی لگائیے تیر اس طرف چلے تو سناں اور کی طرف مجھ کو سنا کے غیر کے اوپر پلٹ پرو پلٹو جو گفتگو میں زباں اور کی طرف حور و پری پہ کیا ہے ہمارا سوائے یار دل اور کی طرف ہے نہ جاں اور کی طرف گھر دل ...

مزید پڑھیے

بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظ

بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظ کان پکڑوں گا جو قلقل کو سنا اے واعظ دختر رز کو جو کہتا ہے برا اے واعظ اس عفیفہ نے ترا کیا ہے کیا اے واعظ جام کوثر کی جو خواہش ہے دم بادہ کشی بزم رندان قدح نوش میں آ اے واعظ جوشش شیشہ و ساغر شکنی کا ہے بیاں منہ توڑے کوئی بدمست ترا اے واعظ جام مے ...

مزید پڑھیے

یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیں

یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیں بت بنے سن رہے ہیں جتنے ہیں صبح پیری ہے غافلان جہاں خواب خرگوش میں ہیں جتنے ہیں موج در موج ہے تباہی میں دم بخود ہیں حباب جتنے ہیں بوئے گل ہو کہ نکہت گل ہو خانہ برباد ہیں یہ جتنے ہیں طرفہ قاتل ہے جس کے مورد ملخ بے چھری ہیں حلال جتنے ہیں خوش نوا یہ ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1048 سے 6203