قومی زبان

دشت غربت ہے تو وہ کیوں ہیں خفا ہم سے بہت

دشت غربت ہے تو وہ کیوں ہیں خفا ہم سے بہت ہم دکھی بیٹھے ہیں لگ چل نہ صبا ہم سے بہت کیا ہے دامن میں بجز گرد مہ و سال امید کیوں الجھتی ہے زمانے کی ہوا ہم سے بہت اب ہم اظہار الم کرنے لگے ہیں سب سے اب اٹھائی نہیں جاتی ہے جفا ہم سے بہت کون موسم ہے کہ پتھر سے لہو رستا ہے خوں بہا مانگے ہے ...

مزید پڑھیے

سوئے شہر آئے اڑاتے پرچم صحرا کو ہم

سوئے شہر آئے اڑاتے پرچم صحرا کو ہم اے جنوں اب کے الٹ کے رکھ ہی دیں دنیا کو ہم تھا کہیں ماضی میں تو اے حال اب آگے تیرا کام لے تو آئے تیری چوکھٹ تک ترے فردا کو ہم کتنے دانا ہیں لگا کر آگ سارے شہر کو ایک گنگا لے چلے جلتی ہوئی لنکا کو ہم مضطرب ہیں سارے سناٹے کہ آوازیں بنیں رہبرو دابے ...

مزید پڑھیے

سورج کا شہر

''نہیں یہ سورج کے شہر کا آدمی نہیں ہے کہ یہ تو مرنے کے بعد فٹ پاتھ پر پڑا ہے یہ لاش ہم سب کی طرح سورج کے ساتھ گردش میں کیوں نہیں ہے؟ پڑھو تو اس ڈائری میں کیا ہے؟'' نچے کھچے اک ورق پہ کچھ یوں لکھا ہوا تھا ''میں اپنی دنیائے فکر و فن تج کے آج بن باس میں پڑا ہوں ضرورتوں میں گھرا ہوا ...

مزید پڑھیے

تلاش

رستہ یہ جانا پہچانا ہے کبھی کبھی یہ اپنا ہوتا تھا برسوں برس تک ان پتھ پر پیار ہمارا سنجوتا تھا سانجھ سویرے ان دیکھی برکھا سے نم رہتی تھی خاک شام کا غنچہ صبح کا سورج، شبنم سے منہ دھوتا تھا خاک سے تیرے بدن کی خوشبو ڈالی ڈالی اڑتی تھی دھیان کا بھونرا پھول کی بکھری پنکھڑیوں کو پروتا ...

مزید پڑھیے

شہر انا میں

یہ تیز دھوپ یہ کاندھوں پہ جاگتا سورج زمیں بلند ہے اتنی کہ آسماں کی رقیب وہ روشنی ہے وہ بیداریاں کہ سائے نہ خواب بس ایک ہوش بس اک آگہی بس اک احساس اور ان کے نور سے جلتے بدن پگھلتے بدن بدن ہیں کھولتے سیال آئینے ہر سو ہر آن بہتے سدا ہیئتیں بدلتے بدن دماغ دور سے ان کا نظارہ کرتا ہے اور ...

مزید پڑھیے

حیات میں بھی اجل کا سماں دکھائی دے

حیات میں بھی اجل کا سماں دکھائی دے وہی زمین وہی آسماں دکھائی دے قدم زمیں سے جدا ہیں نظر مناظر سے غریب شہر کو شہر آسماں دکھائی دے تمام شہر میں بے چہرگی کا عالم ہے جسے بھی دیکھیے گرد اور دھواں دکھائی دے اک ایک شخص ہجوم رواں میں تنہا ہے اک ایک شخص ہجوم رواں دکھائی دے کبھی سنو تو ...

مزید پڑھیے

یاد اس کی ہے کچھ ایسی کہ بسرتی بھی نہیں

یاد اس کی ہے کچھ ایسی کہ بسرتی بھی نہیں نیند آتی بھی نہیں رات گزرتی بھی نہیں زندگی ہے کہ کسی طرح گزرتی بھی نہیں آرزو ہے کہ مری موت سے ڈرتی بھی نہیں بس گزرتے چلے جاتے ہیں مہ و سال امید دو گھڑی گردش ایام ٹھہرتی بھی نہیں دور ہے منزل آفاق دکھی بیٹھے ہیں سخت ہے پاؤں کی زنجیر اترتی ...

مزید پڑھیے

ہوس زلف گرہ گیر لیے بیٹھے ہیں

ہوس زلف گرہ گیر لیے بیٹھے ہیں آیت شوق کی تفسیر لیے بیٹھے ہیں آسماں ساتھ چلا گھر کی زمیں دور ہوئی تجھ سے دور اک رہ دلگیر لیے بیٹھے ہیں وجہ تعزیر ہوئی بے وطنی بھی جب سے عنبریں ہاتھوں کی تحریر لیے بیٹھے ہیں آپ سے آپ وہ کھلتی ہوئی زلفیں تیری اب اسی سوگ کی تصویر لیے بیٹھے ہیں ہائے ...

مزید پڑھیے

اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کو

اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کو سائے نے جلا دیا ہے مجھ کو میں نالۂ سکوت سنگ کا ہوں صحرا نے بہت سنا ہے مجھ کو میں لفظ کی طرح بے زباں تھا معنی نے ادا کیا ہے مجھ کو ہر سچ کا نصیب سنگ ساری اور سچ ہی سے واسطہ ہے مجھ کو خائف نہیں مرگ ناگہاں سے سینے کا وہ حوصلہ ہے مجھ کو پتھر پہ مری صدا کا ...

مزید پڑھیے

قید امکاں سے تمنا تھی گمیں چھوٹ گئی

قید امکاں سے تمنا تھی گمیں چھوٹ گئی پاؤں ہم نے جب اٹھایا تو زمیں چھوٹ گئی لیے جاتا ہے خلاؤں میں جمال شب و روز دن کہیں چھوٹ گیا رات کہیں چھوٹ گئی زندگی کیا تھی میں اک موج کے پیچھے تھا رواں اور وہ موج کہ ساحل کے قریں چھوٹ گئی بود و باش اپنی نہ پوچھو کہ اسی شہر میں ہم زندگی لائے تھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1000 سے 6203