دشت غربت ہے تو وہ کیوں ہیں خفا ہم سے بہت
دشت غربت ہے تو وہ کیوں ہیں خفا ہم سے بہت ہم دکھی بیٹھے ہیں لگ چل نہ صبا ہم سے بہت کیا ہے دامن میں بجز گرد مہ و سال امید کیوں الجھتی ہے زمانے کی ہوا ہم سے بہت اب ہم اظہار الم کرنے لگے ہیں سب سے اب اٹھائی نہیں جاتی ہے جفا ہم سے بہت کون موسم ہے کہ پتھر سے لہو رستا ہے خوں بہا مانگے ہے ...