شاعری

کبھی بھنور تھی جو اک یاد اب سنامی ہے

کبھی بھنور تھی جو اک یاد اب سنامی ہے مگر یہ کیا کہ مجھے اب بھی تشنہ کامی ہے میں اس پہ جان چھڑکتا ہوں با خدا پھر بھی کہیں ہے کچھ مرے بھیتر جو انتقامی ہے مگر جو وہ ہے وہی ہے بھلا کہاں کوئی اور ہزار عیب سہی مانا لاکھ خامی ہے جو جی میں آیا وہی من و عن ہے کاغذ پر نہ سوچا سمجھا سا کچھ ...

مزید پڑھیے

اوٹ پٹانگ الم گلم جانے کیا کیا ہے

اوٹ پٹانگ الم گلم جانے کیا کیا ہے اب جس کے جو جی آتا ہے بک دیتا ہے چھینا جھپٹی نوچ کھسوٹ اور دھینگا مستی عشق ہے عشق میں یہ سب تو چلتا رہتا ہے کس نے ایسے پاؤں پسارے ذہن و دل میں جال اب لفظوں کا کافی چھوٹا پڑتا ہے ڈھکے چھپے کا قائل نہ تو میں نہ وہ ہم نے اک دوجے پر خود کو کھول دیا ...

مزید پڑھیے

ہم کہ افکار کو تجسیم کیا کرتے ہیں

ہم کہ افکار کو تجسیم کیا کرتے ہیں حرف و الفاظ کی تحریم کیا کرتے ہیں بند کر لیتے ہیں آوارہ ہوا مٹھی میں پھر فضا میں اسے تقسیم کیا کرتے ہیں وقت جب ہاتھ نہیں آتا تو روز و شب میں انتقاماً اسے تقویم کیا کرتے ہیں کب ستارا کوئی ماتھے کی شکن میں اترا سب فسوں صاحب تنجیم کیا کرتے ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص مرے پاس جو رہا بھی نہیں

وہ ایک شخص مرے پاس جو رہا بھی نہیں وہ خود کو دور کبھی مجھ سے کر سکا بھی نہیں نگاہ جس کی مری سمت آج تک نہ اٹھی مرے سوا وہ کسی شے کو دیکھتا بھی نہیں مرے خطوط تو جھلا کے پھاڑ دیتا ہے عجیب بات ہے پرزوں کو پھینکتا بھی نہیں تمام وقت ہے وہ محو گفتگو مجھ سے یہ کان جس کی صداؤں سے آشنا بھی ...

مزید پڑھیے

عمر گزر جاتی ہے قصے رہ جاتے ہیں

عمر گزر جاتی ہے قصے رہ جاتے ہیں پچھلی کے رت بچھڑے ساتھی یاد آتے ہیں لوگوں نے بتلایا ہے ہم اب اکثر باتیں کرتے کرتے کہیں کھو جاتے ہیں کوئی ایسے وقت میں ہم سے بچھڑا ہے شام ڈھلے جب پنچھی گھر لوٹ آتے ہیں اپنی ہی آواز سنائی دیتی ہے ورنہ تو سناٹے ہی سناٹے ہیں دل کا ایک ٹھکانا ہے پر ...

مزید پڑھیے

اکا دکا شاذ و نادر باقی ہیں

اکا دکا شاذ و نادر باقی ہیں اپنی آنکھیں جن چہروں کی عادی ہیں ہم بولائے ان کو ڈھونڈا کرتے ہیں سارے شہر کی گلیاں ہم پر ہنستی ہیں جب تک بہلا پاؤ خود کو بہلا لو آخر آخر سارے کھلونے مٹی ہیں کہنے کو ہر ایک سے کہہ سن لیتے ہیں صرف دکھاوا ہے یہ باتیں فرضی ہیں لطف سوا تھا تجھ سے باتیں ...

مزید پڑھیے

اسے نہ ملنے کی سوچا ہے یوں سزا دیں گے

اسے نہ ملنے کی سوچا ہے یوں سزا دیں گے ہر ایک جسم پہ چہرا وہی لگا دیں گے ہمارے شہر میں شکلیں ہیں بے شمار مگر ترے ہی نام سے ہر ایک کو صدا دیں گے ہم آفتاب کو ٹھنڈا نہ کر سکے اے زمیں اب اپنے سائے کی چادر تجھے اوڑھا دیں گے بھلائے بیٹھے ہیں جس کو ہم ایک مدت سے گر اس نے پوچھ لیا تو جواب ...

مزید پڑھیے

اہم آنکھیں ہیں یا منظر کھلے تو

اہم آنکھیں ہیں یا منظر کھلے تو ابھی ہیں بند کتنے در کھلے تو تو پھر کیا حال ہو بس کچھ نہ پوچھو جو بھیتر ہے وہی باہر کھلے تو خیال و لفظ ہیں دست و گریباں ہے کم تر کون ہے برتر کھلے تو سب اپنی کرنی میرے متھے منڈھ دی مصر تھا خیر خود کہ شر کھلے تو دکھائی دے گا کچھ کا کچھ سبھی کچھ مگر ...

مزید پڑھیے

بس ایک بار فقط ایک بار کم سے کم

بس ایک بار فقط ایک بار کم سے کم سوا مرا ہو ترا اختیار کم سے کم ہر ایک رنگ تجھے ڈھانپ دوں گا سر تا پا تری ہر ایک کا بدلہ ہزار کم سے کم نہ ساتھ ساتھ سہی اتنی دور بھی تو نہ جا اجاڑ مت مرے قرب و جوار کم سے کم ہے اتفاق کہ انسان نکلے دونوں ہی حضور والا بہت خاکسار کم سے کم یوں اپنی ساکھ ...

مزید پڑھیے

بڑی سرد رات تھی کل مگر بڑی آنچ تھی بڑا تاؤ تھا

بڑی سرد رات تھی کل مگر بڑی آنچ تھی بڑا تاؤ تھا سبھی تاپتے رہے رات بھر ترا ذکر کیا تھا الاؤ تھا --- --- وہ زباں پہ تالے پڑے ہوئے وہ سبھی کے دیدے پھٹے ہوئے بہا لے گیا جو تمام کو مری گفتگو کا بہاؤ تھا --- --- کبھی مے کدہ کبھی بت کدہ کبھی کعبہ تو کبھی خانقاہ یہ تری طلب کا جنون تھا مجھے کب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 850 سے 5858