کبھی بھنور تھی جو اک یاد اب سنامی ہے
کبھی بھنور تھی جو اک یاد اب سنامی ہے مگر یہ کیا کہ مجھے اب بھی تشنہ کامی ہے میں اس پہ جان چھڑکتا ہوں با خدا پھر بھی کہیں ہے کچھ مرے بھیتر جو انتقامی ہے مگر جو وہ ہے وہی ہے بھلا کہاں کوئی اور ہزار عیب سہی مانا لاکھ خامی ہے جو جی میں آیا وہی من و عن ہے کاغذ پر نہ سوچا سمجھا سا کچھ ...