شاعری

یاد وطن

ان شاندار محلوں کو کیا کروں میں لے کر لگتا نہیں ہے میرا دل آہ ان میں دم بھر ان میں نہیں ہے میری دل بستگی کا منظر دل کش کہیں ہے اس سے اجڑا ہوا مرا گھر مل جائے کاش مجھ کو گھر آہ! میرا پیارا غربت میں مجھ کو رہنا دم بھر نہیں گوارا ہیں برکتیں اترتی جس گھر میں آسماں سے پیارا ہے آہ وہ گھر ...

مزید پڑھیے

بادشاہوں کی طرح اور نہ وزیروں کی طرح

بادشاہوں کی طرح اور نہ وزیروں کی طرح ہم تو درویش تھے آئے یہاں پیروں کی طرح راج محلوں میں کہاں ڈھونڈھ رہے ہو ہم کو ہم تو اجمیر میں رہتے ہیں فقیروں کی طرح ہم بھی اس ملک کی تقدیر کا اک حصہ ہیں ہم نہ مٹ پائیں گے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح جانفشانی سے بہت ہم نے جڑے ہیں آنسو مادر ہند ترے ...

مزید پڑھیے

تیری نظر کے سامنے یہ دل نہیں رہا

تیری نظر کے سامنے یہ دل نہیں رہا آئینہ آئنہ کے مقابل نہیں رہا اچھا ہوا کہ وقت سے پہلے بچھڑ گیا بربادیوں میں تو مری شامل نہیں رہا مجھ کو سمجھ رہا تھا جو ماضی کی اک کتاب وہ بھی نئے نصاب میں شامل نہیں رہا لوٹ آئیں پھر سے کشتیاں طوفاں سے ہار کر ویراں بہت دنوں مرا ساحل نہیں ...

مزید پڑھیے

لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے

لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے یہ شاخ مجھ کو مری غم شناس لگتی ہے کسی کتاب کے اندر دبی ہوئی تتلی اسی کتاب کا اک اقتباس لگتی ہے وہ موت ہی ہے جو دیتی ہے سو طرح کے لباس یہ زندگی ہے کہ جو بے لباس لگتی ہے تھی قہقہوں کی تمنا تو آ گئے آنسو خوشی کی آرزو غم کی اساس لگتی ہے اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

منبروں پر بھی گنہ گار نظر آتے ہیں

منبروں پر بھی گنہ گار نظر آتے ہیں سب قیامت کے ہی آثار نظر آتے ہیں ان مسیحاؤں سے اللہ بچائے ہم کو شکل و صورت سے جو بیمار نظر آتے ہیں جانے کیا ٹوٹ گیا ہے کہ ہر اک رات مجھے خواب میں گنبد و مینار نظر آتے ہیں مات دیتے ہیں یزیدوں کو لہو سے ہم ہی ہم ہی نیزوں پہ ہر اک بار نظر آتے ...

مزید پڑھیے

اس سے گلے شکایتیں شکوے بھی چھوڑ دو

اس سے گلے شکایتیں شکوے بھی چھوڑ دو در اس کا چھٹ گیا تو دریچے بھی چھوڑ دو کیسا ہے وہ کہاں ہے بنا کس کا ہم سفر بہتر ہے کچھ سوال ادھورے بھی چھوڑ دو اک بے وفا کا نام لکھو گے کہاں تلک اوراق اپنے ماضی کے سادے بھی چھوڑ دو جینے کے واسطے نہ سہارے کرو تلاش جب ڈوب ہی رہے ہو تو تنکے بھی چھوڑ ...

مزید پڑھیے

ترنگا

لہرائے جا ترنگا آزادی کے عاشق ویروں کے سر پر لہرائے جا لہرا لہرا کر آزادی کے پیغام بنائے جا کوہستانی برف کی صورت تجھ میں تیز سفیدی گاؤں میں اگنے والی کپاسوں کے مانند روپہلی پکے آم کے پھل کی صورت رنگت کیسریالی جاں بازوں کے پاک لہو کی یاد دلانے والی جنگل کی آنکھوں کی صورت سبز ہے ...

مزید پڑھیے

کھنڈر

اسی اداس کھنڈر کے اداس ٹیلے پر جہاں پڑے ہیں نکیلے سے سرمئی کنکر جہاں کی خاک پہ شبنم کے ہار بکھرے ہیں شفق کی نرم کرن جس پہ جھلملاتی ہے شکستہ اینٹوں پہ مکڑی کے جال ہیں جس جا یہیں پہ دل کو نئے درد سے دو چار کیا کسی کے پاؤں کی آہٹ کا انتظار کیا اسی اداس کھنڈر کے اداس ٹیلے پر یہ نہر جس ...

مزید پڑھیے

لڑکپن کی یاد

تو مجھ کو ہم نشیں اپنا لڑکپن یاد آتا ہے کبھی خالی کلاسوں میں جو بچے غل مچاتے ہیں کسی انجان شاعر کی غزل مل جل کے گاتے ہیں خوشی سے ناچتے ہیں ڈیسک پر طبلہ بجاتے ہیں تو مجھ کو ہم نشیں اپنا لڑکپن یاد آتا ہے ہوا کرتی ہے جب چھٹی تو چنچل سرپھرے خود سر لئے ہاتھوں میں بستے مارتے فٹ بال کو ...

مزید پڑھیے

راہ گزر

(تھرتھراتا ہوا احساس کے غم خانے میں نرگسی آنکھوں کا معصوم سا شکوا دن رات زیست کے ساتھ رہا کرتا ہے سائے کی طرح چند اترے ہوئے چہروں کا تقاضا دن رات) شام ہوتی ہے تو روتی ہیں ننداسی آنکھیں لوریاں روٹھ گئیں پیار بھری بات گئی صبح آتی ہے تو کہتی ہیں نگاہیں اٹھ کر کس لیے دن کا اجالا ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 844 سے 5858