شاعری

حسرت

سکوت زندگی ہے دشمن جاں اب تو آ جاؤ مری ہستی ہے خود مجھ سے پریشاں اب تو آ جاؤ سنا ہے آج کل میں اور بھی بے تاب رہتا ہوں مری آنکھوں سے حسرت ہے نمایاں اب تو آ جاؤ

مزید پڑھیے

مایوسی

میری مایوس جوانی تجھے راس آ نہ سکی سالہا سال امیدوں کے ثمر مل نہ سکے بارہا موج صبا پاس سے گزری لیکن تیرے ہونٹوں پہ تبسم کے کنول کھل نہ سکے

مزید پڑھیے

کنٹرول

کچھ سوچ کر اداس نہ ہو کنٹرول ہے اب شب کو دیر تک نہ پڑھو کنٹرول ہے بستر سے اٹھ کے منہ بھی نہ دھو کنٹرول ہے اب ناشتے کا نام نہ لو کنٹرول ہے کھانے میں احتیاط کرو کنٹرول ہے بچپن بدل گیا ہے جوانی بدل گئی پریوں کے دیس کی وہ کہانی بدل گئی راجہ کا حال دیکھ کے رانی بدل گئی سپنوں کے ساتھ ساتھ ...

مزید پڑھیے

امتحان سے پہلے

شان کی فکر ہے نہ آن کی ہے اب مجھے فکر امتحان کی ہے پڑھ رہا ہوں کتاب محنت سے ہوں گا میں کامیاب محنت سے فرسٹ آنا ہے مجھ کو اب کی بار کچھ دکھانا ہے مجھ کو اب کی بار اپنی محنت کی لاج رکھنی ہے کل کی بنیاد آج رکھنی ہے فوری کر لوں گا میں اگر محنت امتحاں سے نہ ہوگی کچھ وحشت سال بھر میں نے کی ...

مزید پڑھیے

اس کے نام

وہی غنچوں کی شادابی وہی پھولوں کی نکہت ہے وہی سیر گلستاں ہے وہی جوش مسرت ہے وہی موج تبسم ہے وہی انداز فطرت ہے وہی دام تخیل ہے وہی رنگ حقیقت ہے وہی صبح مسا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں بڑی رنگیں فضا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں وہی مخمور راتیں اب بھی تصویر تخیل ہیں وہی دل چسپ باتیں اب ...

مزید پڑھیے

اعتبار

قدم قدم پہ نگاہیں پکارتی ہیں مجھے نفس نفس کا کوئی اعتبار ہو تو رکوں یہ دل کہ تھا جو کبھی مرکز محبت بھی کسی کے واسطے پھر بے قرار ہو تو رکوں

مزید پڑھیے

انجام وصال

تم آئے نصیب جاگ اٹھا مایوس نگاہ مسکرائی لیکن کوئی کہہ رہا ہے مجھ سے انجام وصال ہے جدائی

مزید پڑھیے

آرزو

ہر مسافر تلاش کرتا ہے اپنی منزل کو شام سے پہلے آرزو کروٹیں بدلتی ہے زندگی کے قیام سے پہلے

مزید پڑھیے
صفحہ 756 سے 5858