شاعری

خواب آنکھوں کی حوالات میں ڈالا گیا ہے

خواب آنکھوں کی حوالات میں ڈالا گیا ہے نیند کو یوں ہی فسادات میں ڈالا گیا ہے مجھ کو ہلکی سی تجلی کی جھلک آتی ہے کہکشاؤں کو تری بات میں ڈالا گیا یہ کسی نیک صحافی کا ہنر ہے شاید طنز جی بھر کے سوالات میں ڈالا گیا ہے اک محبت ہے مری اپنی کمائی ہوئی شے اور جو کچھ ہے وہ خیرات میں ڈالا ...

مزید پڑھیے

شاعری یا لن ترانی ہے تو ہے

شاعری یا لن ترانی ہے تو ہے یہ روایت خاندانی ہے تو ہے لازمی تھا کچھ سوالوں کا جواب چلئے پھر یہ بد زبانی ہے تو ہے ہم تو اک تصویر ان کو دے چکے اب بھلے یہ مہربانی ہے تو ہے عشق کوئی بانٹنے کی شے نہیں سامنے پھر کوئی رانی ہے تو ہے کون سے نخرے اٹھاتی تھی مری منہ پھلائے زندگانی ہے تو ...

مزید پڑھیے

سوداگری کے سارے حوالوں کو بیچ دوں

سوداگری کے سارے حوالوں کو بیچ دوں میں آگ کو خرید کے چھالوں کو بیچ دوں ڈر ہے کہ اندھیروں کو بتا دیں گے میرا عیب چن چن کے گھر سے سارے اجالوں کو بیچ دوں ممکن ہے بیچ سکتی ہوں اپنے سخن کو میں ایسا بھی اب نہیں کہ خیالوں کو بیچ دوں سوچا کسی بہانے صفائی ہو ذہن کی ردی سے بے تکے سے سوالوں ...

مزید پڑھیے

ہم سفر

وقت کی دھوپ تیز ہوتی ہے ہم سفر ہو تو راہ کٹ جائے سہل ہو جائے پھر تو جہد حیات دل نہ سہمے خیال بٹ جائے

مزید پڑھیے

یاس

ہم غریبوں کے لیے عید کہاں زندگی یاس کا گہوارہ ہے ہر نفس تازہ امیدوں کے لیے اک دہکتا ہوا انگارہ ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 755 سے 5858