شاعری

عورت

مجسم عشوہ و انداز بھی ہے مگر عورت جہان راز بھی ہے ستم آرائیاں تسلیم لیکن نہایت مخلص و دم ساز بھی ہے شکت آرزو کی بات کیسی ہجوم آرزو کا راز بھی ہے اگر کوتاہ نظری ہو نہ حائل تو شاید مرکز پرواز بھی ہے کہیں افسانۂ عشق و محبت کہیں روداد سوز و ساز بھی ہے یہی تقدیس مریم ضبط سیتا یہی ...

مزید پڑھیے

نیند پری

شام ڈھلی ہوا چلی دیپ جلے کام رکے چاند ہنسا رنگ جما رات بڑھی اوس پڑی پھول ہنسے پیار لیے آ ہی گئی چھا ہی گئی سپنوں بھری نیند پری

مزید پڑھیے

بچوں کی قوالی

حلوے کے لیے پھر آج بھی ہم اک آس لگائے بیٹھے ہیں جو بات زباں پر لا نہ سکے وہ دل میں چھپائے بیٹھے ہیں تھوڑی سی مٹھائی طاق پہ تھی مٹھی میں چرائے بیٹھے ہیں ابو کے بھگائے بھاگے تھے امی کے بلائے بیٹھے ہیں کچھ بچ بھی گئی ہیں پٹنے سے کچھ مار بھی کھائے بیٹھے ہیں تجھ سے تو ہمیں کوئی شکوہ اے ...

مزید پڑھیے

بھائی چارہ

جنگ چھڑی ہو سرحد پر یا کہیں لگی ہو آگ پورا ہو ارمان کسی کا یا سو جائیں بھاگ میری بین جدا ہے سب سے میری جدا ہے راگ میری دنیا کھیل تماشا میں ہوں منا پیارا سب کے دل کی راحت ہوں میں سب کی آنکھ کا تارا میں روؤں تو مجھ کو گھر کے سارے لوگ منائیں میں سوؤں تو میرے سپنوں میں پریاں آ جائیں میں ...

مزید پڑھیے

15 اگست

ہر سو ہے بہار ماہ اگست ہے دل میں قرار ماہ اگست اپنا ہے چمن اپنا ہے وطن اپنا ہے جہان آزادی ہے ہاتھوں میں آزادی کا علم ہے سب سے جدا اپنا پرچم آزاد ہے اب اپنا مسکن اونچا ہے نشان آزادی دھرتی کو سجائیں گے ہم سب گلزار بنائیں گے ہم سب ہم سب کو ترقی کی ہے لگن دکھلائیں گے شان آزادی اس دیش کی ...

مزید پڑھیے

ہم بچے ہم شہزادے

پھول کھلیں گے گلشن میں دیپ جلیں گے آنگن میں دل نہ کسی کا ہم توڑیں گے عہد ہے اپنا بچپن میں رکھیں گے ماں باپ کی لاج چمکیں گے علم و فن میں باہم مل کے رہیں گے ہم کھوٹ نہ رکھیں گے من میں دنیا ہم کو دیکھے گی ایک نئے پیراہن میں پھیلیں گے خوشبو کی طرح دھرتی کے اس آنگن میں دل میں جو رکھتا ہے ...

مزید پڑھیے

کھلتا ہوا گلاب ہے 26 جنوری

لمحے نئے ہیں سال نیا آرزو نئی ہمت نہیں ہے راہ نئی جستجو نئی لگتی ہے ہم کو آج ہر اک گفتگو نئی اجلا سا آفتاب ہے چھبیس جنوری کھلتا ہوا گلاب ہے چھبیس جنوری جس دن بنا تھا ملک میں آئین خوش گوار اپنے چمن میں آئی تھی جس دن نئی بہار جو دن ہے اپنی عظمت و رفعت کی یادگار اس دن کا ایک باب ہے ...

مزید پڑھیے

ایک وحشت ہے رہ گزاروں میں

ایک وحشت ہے رہ گزاروں میں قافلے لٹ گئے بہاروں میں ساز خاموش آرزو بیمار کوئی نغمہ نہیں ہے تاروں میں اس طرف بھی نگاہ دزدیدہ ہم بھی ہیں زندگی کے ماروں میں یہ تو اک اتفاق ہے ورنہ آپ اور میرے غم گساروں میں آدمی آدمی نہ بن پایا بستیاں لٹ گئیں اشاروں میں دیکھ کر وقت کے تغیر کو چاند ...

مزید پڑھیے

غم کی اندھیری راہوں میں تو تم بھی نہیں کام آؤ ہو

غم کی اندھیری راہوں میں تو تم بھی نہیں کام آؤ ہو کیوں بے کار کرو ہو حجت آگے بات بڑھاؤ ہو کیوں تھم تھم کر قدم رکھو ہو کیوں اتنا گھبراؤ ہو رات کا سناٹا ہے میں ہوں تم کس سے شرماؤ ہو آؤ اپنے ہاتھ میں لے کر ہاتھ ہمارا دیکھو تو ہم نے سنا ہے تم سب کی قسمت کا حال بتاؤ ہو پہلے پہر جب آ نہ ...

مزید پڑھیے

ہر برے وقت میں کام آیا تھا

ہر برے وقت میں کام آیا تھا اگلے وقتوں کا وہ ہم سایہ تھا آئنے میں تھا وہ کس کا چہرہ میں جسے دیکھ کے شرمایا تھا گر گیا آج وہ بوڑھا برگد میرے آنگن کا جو سرمایہ تھا اہل زر سے بھی خریدا نہ گیا مایۂ ناز وہ بے مایہ تھا

مزید پڑھیے
صفحہ 757 سے 5858