چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے موت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہے یہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے کشتۂ زلف کے مرقد پہ تو اے لیلی وش بید مجنوں ہی لگا تاکہ پتا یاد رہے خاکساری ہے عجب وصف کہ جوں جوں ہو سوا ہو صفا اور دل اہل صفا یاد رہے ہو ...