پھول شعروں کی روانی میں چلے تلوار بھی
پھول شعروں کی روانی میں چلے تلوار بھی بانسری کی تان میں ہے نیمچے کی دھار بھی دل کی دھرتی پر کپل وستو میں خیبر چاہئے آدمی گوتم بھی ہو اور حیدر کرار بھی درد پر ہے اس کے چڑھنے اور اترنے کا مدار دل وہ دریا ہے کہ ہے پایاب بھی منجدھار بھی ٹانک دے آہ و بکا میں شبنمی چنگاریاں آنکھ ...