شاعری

پھول شعروں کی روانی میں چلے تلوار بھی

پھول شعروں کی روانی میں چلے تلوار بھی بانسری کی تان میں ہے نیمچے کی دھار بھی دل کی دھرتی پر کپل وستو میں خیبر چاہئے آدمی گوتم بھی ہو اور حیدر کرار بھی درد پر ہے اس کے چڑھنے اور اترنے کا مدار دل وہ دریا ہے کہ ہے پایاب بھی منجدھار بھی ٹانک دے آہ و بکا میں شبنمی چنگاریاں آنکھ ...

مزید پڑھیے

جب سوز دعا میں ڈھلتا ہے

جب سوز دعا میں ڈھلتا ہے ہونٹوں پہ دیپک جلتا ہے مسجد کی زمیں پہ سرو دعا آہوں کی لو میں پھلتا ہے اک سجدہ دل کے ماتھے پر ہر پچھلی رات مچلتا ہے پلکوں پہ لرزتے اشکوں سے درویش کا روپ اجلتا ہے غصے کو پی کے رند رضا نشے میں پھول اگلتا ہے خواہش کے خوں کی برکھا سے کردار کا بوٹا پلتا ...

مزید پڑھیے

مستی ازل کی شہ پر جبریل ہو گئی

مستی ازل کی شہ پر جبریل ہو گئی میری بیاض پرتو انجیل ہو گئی دل کا گداز آہ کی تاثیر دیکھ کر پتھر کی ذات کانپ کے تحلیل ہو گئی ہر لفظ کنکری کی طرح غیر پر گرا اپنی دعا فلک پہ ابابیل ہو گئی فرعون بے کرم جو ہوا مائل ستم ندی مرے لہو کی وہیں نیل ہو گئی جانا تھا زود‌ تر مجھے میدان حشر ...

مزید پڑھیے

زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں

زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں یہ نفس عمر کے پھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں جسے نادان کی بولی میں صدی کہتے ہیں وہ گھڑی شام سویرے کے سوا کچھ بھی نہیں دل کبھی شہر سدا رنگ ہوا کرتا تھا اب تو اجڑے ہوئے ڈیرے کے سوا کچھ بھی نہیں ہاتھ میں بین ہے کانوں کی لوؤں میں بالے یہ ریاکار سپیرے ...

مزید پڑھیے

جب عرش پہ دم توڑنے لگتی ہیں دعائیں

جب عرش پہ دم توڑنے لگتی ہیں دعائیں دیتا ہے رگ جاں سے مجھے کوئی صدائیں پھر سرمد و منصور کا آتا ہے زمانہ اب اہل چمن گل کی جگہ دار اگائیں اس تشنہ کی برسات میں کیا پیاس بجھے گی کشمیر کے برفاب جسے آگ لگائیں یوں اپنی دعا سن کے چہک اٹھے فرشتے جس طرح سخن فہم کوئی مصرع اٹھائیں اللہ رے ...

مزید پڑھیے

مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا

مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا دہان زخم سے خوں ہو کے حرف آرزو نکلا مرا گھر تیری منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالع خدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہ رو نکلا پھرا گر آسماں تو شوق میں تیرے ہے سرگرداں اگر خورشید نکلا تیرا گرم جستجو نکلا مئے عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہم وہ تھا ...

مزید پڑھیے

بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر

بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر ایماں یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کر دل سینے میں کہاں ہے نہ تو دیکھ بھال کر اے آہ کہہ دے تیر کا نامہ نکال کر اترے گا ایک جام بھی پورا نہ چاک سے خاک دل شکستہ نہ صرف کلال کر لے کر بتوں نے جان جب ایماں پہ ڈالا ہاتھ دل کیا کنارے ہو گیا سب کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 747 سے 5858