دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دے
دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دے جس سر کا ہے یہ بال اسی سر میں جوڑ دے پر ذوقؔ تو نہ چھوڑے گا اس پیر زال کو یہ پیر زال گر تجھے چاہے تو چھوڑ دے
دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دے جس سر کا ہے یہ بال اسی سر میں جوڑ دے پر ذوقؔ تو نہ چھوڑے گا اس پیر زال کو یہ پیر زال گر تجھے چاہے تو چھوڑ دے
جلوہ بے مایہ سا تھا چشم و نظر سے پہلے زیست اک حادثہ تھی قلب و جگر سے پہلے حسن کے سوز نمائش کا ہے انعام حیات وقت بھی وقت نہ تھا شمس و قمر سے پہلے وحی اتری دل بے تاب کی تشکیل کے بعد عشق تعمیر ہوا علم و ہنر سے پہلے عین فردوس میں جل اٹھا تھا آدم کا شباب آگ برسی تھی یہیں دیدۂ تر سے ...
برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی کچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئی اس کے قدموں تک نہ بیتابی بڑھا کر لے گئی ہائے دو پلٹے دئیے اور پھر ہٹا کر لے گئی ناتوانی ہم کو ہاتھوں ہاتھ اٹھا کر لے گئی چیونٹی سے چیونٹی دانہ چھڑا کر لے گئی صبح رخ سے کون شام زلف میں جاتا تھا آہ اے دل شامت ...
ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو اک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہو ہے دم باز پسیں دیکھ لو گر دیکھتے ہو آئینہ منہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو ناتوانی کا مری مجھ سے نہ پوچھو احوال ہو مجھے دیکھتے یا اپنی کمر دیکھتے ہو پر پروانہ پڑے ہیں شجر شمع کے گرد برگ ریزی محبت کا ...
کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے ان کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والے چاہیں گر چارہ جراحت کا محبت والے بیچیں الماس و نمک سنگ جراحت والے گئے جنت میں اگر سوز محبت والے تو یہ جانو رہے دوزخ ہی میں جنت والے ساقیا ہوں جو صبوحی کی نہ عادت والے صبح محشر کو بھی اٹھیں نہ ترے ...
زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے جانے کا نہیں چور مرے زخم جگر سے ہم خوب ہیں واقف ترے انداز کمر سے یہ تار نکلتا ہے کوئی دل کے گہر سے پھر آئے اگر جیتے وہ کعبہ کے سفر سے تو جانو پھرے شیخ جی اللہ کے گھر سے سرمایۂ امید ہے کیا پاس ہمارے اک آہ ہے سینہ میں سو نامید اثر سے وہ خلق سے پیش ...
دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے ہر لالہ یاں ہے نافۂ مشک ختن مجھے ہمدم وبال دوش نہ کر پیرہن مجھے کانٹا سا ہے کھٹکتا مرا تن بدن مجھے پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے زنجیر پا ہے موج نسیم چمن مجھے تسبیح دور بزم میں دیکھو امام کو بخشی ہے حق نے زیب سر انجمن مجھے اے میرے یاسمن ...
کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے نہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دے بجھے گا سوز دل اے گریہ پل میں آب تو دے دگر ہے آگ میں دنیا یوں ہی عذاب تو دے گزرنے گر یہ مرے سر سے اتنا آب تو دے کہ سر پہ چرخ بھی دکھلائی جوں حباب تو دے ہزاروں تشنہ جگر کس سے ہوئیں گے سیراب خدا کے واسطے تیغ ستم کو ...
چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے برق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ذکر شمع حسن لانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ان کو درپردہ جلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جھوٹ موٹ افیون کھانا کوئی ہم سے ...
بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں ہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں ہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیں تو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں شب وصال کے روز فراق میں کیا کیا نصیب مجھ سے مرے انتقام لیتے ہیں قمر ہی داغ غلامی فقط نہیں رکھتا وہ مول ایسے ہزاروں غلام لیتے ...