پھر مری آنکھ تری یاد سے بھر آئی ہے
پھر مری آنکھ تری یاد سے بھر آئی ہے پھر تصور میں وہی جلوۂ زیبائی ہے دشت غربت میں وہی عالم تنہائی ہے سر میں سودا ہے ترا اور ترا سودائی ہے کیا ارادہ ہے مری زیست کا میں کیا جانوں کشتیٔ عمر مری موت سے ٹکرائی ہے الفت ساقیٔ مہوش کے تصور میں شراب آج ساغر میں پری بن کے اتر آئی ہے آئنہ ...