شاعری

پھر مری آنکھ تری یاد سے بھر آئی ہے

پھر مری آنکھ تری یاد سے بھر آئی ہے پھر تصور میں وہی جلوۂ زیبائی ہے دشت غربت میں وہی عالم تنہائی ہے سر میں سودا ہے ترا اور ترا سودائی ہے کیا ارادہ ہے مری زیست کا میں کیا جانوں کشتیٔ عمر مری موت سے ٹکرائی ہے الفت ساقیٔ مہوش کے تصور میں شراب آج ساغر میں پری بن کے اتر آئی ہے آئنہ ...

مزید پڑھیے

ہوس کا دام پھیلایا ہوا ہے

ہوس کا دام پھیلایا ہوا ہے دل معصوم گھبرایا ہوا ہے کسی شیشہ پہ بال آیا ہوا ہے دل غم ناک تھرایا ہوا ہے تمنا خلد کی اور مے پرستی یہ واعظ کس کا بہکایا ہوا ہے کہاں لے جاؤں رغبت آشیاں کی اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا ہے جہاں ہو کار فرما زر پرستی وہاں ذوق خدا آیا ہوا ہے خدارا اس طرف بھی ...

مزید پڑھیے

یاس کی منزل میں تنہائی تھی اور کچھ بھی نہیں

یاس کی منزل میں تنہائی تھی اور کچھ بھی نہیں جرأت پرواز شرمائی تھی اور کچھ بھی نہیں آج میخانے میں اذن عام تھا ساقی ترے اس لئے دنیا ادھر آئی تھی اور کچھ بھی نہیں آج میری کشتئ طوفاں شکن نے دوستو ڈوب جانے کی قسم کھائی تھی اور کچھ بھی نہیں لوگ جس کو ناگ‌ و ناگن کا فسوں کہنے لگے تم ...

مزید پڑھیے

شعلہ خیز و شعلہ ور اب ہر رہ تدبیر ہے

شعلہ خیز و شعلہ ور اب ہر رہ تدبیر ہے زندگی گویا چتا کی بولتی تصویر ہے دیکھ کر صحن چمن کو یہ گماں ہونے لگا گویا کھینچنے کو نئی سی پھر کوئی تصویر ہے آشیاں کی زندگی سے ہو چلا ہے دل اچاٹ پھر وہی شوق شہادت دل کا دامن گیر ہے آج از راہ کرم بھر دے لبالب ساقیا ذوق مے نوشی مرا پھر موجب ...

مزید پڑھیے

نہ جب تک درد انساں سے کسی کو آگہی ہوگی

نہ جب تک درد انساں سے کسی کو آگہی ہوگی نہ پیدا عشق ہوگا اور نہ دل میں روشنی ہوگی وہ نکلے ہوں گے جب صحن‌ چمن میں بے نقاب ہو کر نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی نمازی جا رہے ہیں آج کیوں سوئے صنم خانہ بہار بے خودی شاید وہاں بھی آ گئی ہوگی نہ جانے دیکھیے کب تک رہے مشق ستم مجھ ...

مزید پڑھیے

خواب تھے میرے کچھ سہانے سے

خواب تھے میرے کچھ سہانے سے آپ کو کیا ملا مٹانے سے راہ حق پر جو لوگ چلتے ہیں خوف کھاتے نہیں زمانے سے ہم کو دل کا سکون ملتا ہے فاقہ مستوں کو کچھ کھلانے سے بد دعا مت غریب کی لینا باز رہنا اسے ستانے سے بن کے آتے ہیں کیسے کیسے لوگ اے خدا تیرے کارخانے سے مسکراتے رہو خدا کے لیے پھول ...

مزید پڑھیے

کاٹے ہیں دن حیات کے لاچار کی طرح

کاٹے ہیں دن حیات کے لاچار کی طرح کہنے کو زندگی ہے یہ گل زار کی طرح معلوم ہی نہ تھیں انہیں کچھ اپنی قیمتیں اہل قلم بکے یہاں اخبار کی طرح تقریر اس نے کی تھی ہمارے خلاف جو ہر لفظ چبھ رہا ہے ہمیں خار کی طرح کیا تم پہ اعتبار کریں تم ہی کچھ کہو قول و قرار کرتے ہو سرکار کی طرح نکلے گی ...

مزید پڑھیے

باتیں کرنے میں تو دنیا میں سبھی ہشیار تھے

باتیں کرنے میں تو دنیا میں سبھی ہشیار تھے ساتھ دیتے مشکلوں میں وہ تو بس دو چار تھے ہم سے جو کرتے رہے وعدے ہمیشہ بے شمار وقت پڑنے پر مکرنے کو صدا تیار تھے زندگی نے ہم کو دی ہیں نعمتیں یوں تو بہت ان کا سداپیوگ کرنے سے ہمیں لاچار تھے لوگ جو اپنے فرائض سے رہے غافل سدا مانگتے پھر کس ...

مزید پڑھیے

یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں

یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں ملاقات کے دن قریب آ رہے ہیں وہ گلشن میں یوں سیر فرما رہے ہیں ادھر آ رہے ہیں ادھر جا رہے ہیں سروں پر مصائب بھی منڈلا رہیں ہیں مگر گیت خوشیوں کے ہم گا رہے ہیں سمجھنے کو کوئی بھی راضی نہیں ہے ہمیں دل تو ہم دل کو سمجھا رہے ہیں سلجھتی نہیں زلف بھی ...

مزید پڑھیے

جو سجتا ہے کلائی پر کوئی زیور حسینوں کی

جو سجتا ہے کلائی پر کوئی زیور حسینوں کی تبھی بڑھتی ہیں قیمت جوہری تیرے نگینوں کی اٹھا دیتی ہے دیواریں دلوں کے بیچ یہ اکثر ضرورت کیوں ہو پھر ہم کو بھلا ایسی زمینوں کی اسی میں چھید کرتے ہیں کہ جس تھالی میں کھاتے ہیں بدل سکتی نہیں عادت کبھی ایسی کمینوں کی بھرا ہے لاکھ پھولوں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 698 سے 5858