شاعری

وہ جس کے دل میں نہاں درد دو جہاں کا تھا

وہ جس کے دل میں نہاں درد دو جہاں کا تھا خبر کسی کو نہیں کون تھا کہاں کا تھا تلاش یار میں بھٹکا کیے خلاؤں میں ہمیں زمیں کا پتہ تھا نہ آسماں کا تھا ہنسا جو پھول تو شبنم کی آنکھ بھر آئی بہار سمجھا جسے دور وہ خزاں کا تھا ہزار بار مرا زندگی میں جیتے جی وہ شخص خوف جسے مرگ ناگہاں کا ...

مزید پڑھیے

جس کو جانا تھا کل تک خدا کی طرح

جس کو جانا تھا کل تک خدا کی طرح آج ملتا ہے وہ آشنا کی طرح میری ہستی بھی ہو جائے گی جاوداں دست قاتل اٹھا ہے دعا کی طرح اس کے ہاتھوں پہ ہیں میرے خوں کے نشاں جو مہکتے ہیں رنگ حنا کی طرح جستجو ہے مجھے آج اس شخص کی جو وفا بھی کرے بے وفا کی طرح راہ منزل میں بیٹھو نہ یوں ہار کر روندے جاؤ ...

مزید پڑھیے

راز فطرت نہاں تھا نہاں ہے ابھی

راز فطرت نہاں تھا نہاں ہے ابھی آسماں سے پرے آسماں ہے ابھی میں ازل سے سناتا رہا ہوں مگر نامکمل مری داستاں ہے ابھی ہم سفر چھوڑ کر چل دیے ہیں تو کیا ساتھ میرے یہ عمر رواں ہے ابھی عمر بھر سوئے منزل چلا ہوں مگر فاصلہ جوں کا توں درمیاں ہے ابھی راحتوں کے وہ دن جانے کب آئیں گے زندگی ...

مزید پڑھیے

رگ رگ میں تیرے ہجر کو بھرنا پڑا مجھے

رگ رگ میں تیرے ہجر کو بھرنا پڑا مجھے تیرے لیے یہ کام بھی کرنا پڑا مجھے تشنہ لبی تھی اور سمندر میں زہر تھا تھوڑا سا جینے کے لیے مرنا پڑا مجھے تنہا یہ تیرگی سے بھلا کیسے جیتتا سورج کے ساتھ ساتھ ابھرنا پڑا مجھے میں آپ اپنا بوجھ تھا اپنے ہی آپ پر سو اپنے آپ سے ہی اترنا پڑا ...

مزید پڑھیے

تیری رات میں گہما گہمی میری ہر اک رات میں چپ

تیری رات میں گہما گہمی میری ہر اک رات میں چپ تیری چپ میں سب باتیں ہیں میری ہر اک بات میں چپ اک اک کر کے سارے اپنے مجھ سے ایسے دور گئے تنہائی نے ڈیرا ڈالا پھیلی اندر ذات میں چپ جانے کیسی یہ قسمت ہے چاہوں کچھ تو ہوتا کچھ میں رونق کو ڈھونڈ رہا ہوں اور ہے میری گھات میں چپ میں نے اس سے ...

مزید پڑھیے

روشنی سے ہار کر

روشنی سے ہار کر تیرگی سے پیار کر ہاتھ ہاتھوں سے ملا پیٹھ پیچھے وار کر ضدی بچہ سو گیا اپنی خواہش مار کر سوچ کا چشمہ لگا دیر تک دیدار کر کس نے بولا درد لے کس نے بولا پیار کر زہر پی اور ہو امر ڈوب جا اور پار کر عشق کی بازی لگا جیت جا سب ہار کر خامشی کا قفل توڑ لب ہلا اظہار ...

مزید پڑھیے

لبوں پہ اب کوئی آہ و فغاں نہیں ہوتی

لبوں پہ اب کوئی آہ و فغاں نہیں ہوتی زباں سے دل کی کہانی بیاں نہیں ہوتی خلش تو آج بھی ہوتی ہے میرے سینے میں نشست درد جہاں تھی وہاں نہیں ہوتی خدا نے چاہا تو مل جائیں گے کہیں نہ کہیں بچھڑ کے ختم یہاں داستاں نہیں ہوتی جو خود سے ملتے ہیں ہم بے خودی کے عالم میں تمہاری یاد تلک درمیاں ...

مزید پڑھیے

زخم دل اب پھول بن کر کھل گیا

زخم دل اب پھول بن کر کھل گیا حاصل غم آج مجھ کو مل گیا آج تک چلتا رہا جو ساتھ ساتھ جانے اب وہ کون سی منزل گیا ڈھونڈھتی پھرتی تھی جس کو زندگی موت کے پہلو میں سویا مل گیا قتل کر کے مجھ کو بے رحمی کے ساتھ گھر تلک روتا ہوا قاتل گیا آبلہ پا کون آیا تھا ادھر سنگ رہ بھی پھول بن کر کھل ...

مزید پڑھیے

وہ اور ہوں گے جو وہم و گماں کے ساتھ چلے

وہ اور ہوں گے جو وہم و گماں کے ساتھ چلے ہم اپنی راہ پہ عزم جواں کے ساتھ چلے تلاش یار میں ہم ہر مقام سے گزرے کبھی زمین کبھی آسماں کے ساتھ چلے نہ جانے کتنی ہی صدیوں کے فاصلے ہیں ابھی ہوئی ہے عمر زمان و مکاں کے ساتھ چلے کبھی تو پائیں گے ہم بھی حیات کی منزل اسی خیال سے عمر رواں کے ...

مزید پڑھیے

جب ترا آسرا نہیں ملتا

جب ترا آسرا نہیں ملتا کوئی بھی راستا نہیں ملتا اپنا اپنا نصیب ہے پیارے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ملتا تو نے ڈھونڈا نہیں تہ دل سے ورنہ کس جا خدا نہیں ملتا لوگ ملتے ہیں پھر بچھڑتے ہیں کوئی درد آشنا نہیں ملتا ساری دنیا کی ہے خبر مجھ کو صرف اپنا پتا نہیں ملتا حسرتیں داغ و درد و رنج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 696 سے 5858