وہ جس کے دل میں نہاں درد دو جہاں کا تھا
وہ جس کے دل میں نہاں درد دو جہاں کا تھا خبر کسی کو نہیں کون تھا کہاں کا تھا تلاش یار میں بھٹکا کیے خلاؤں میں ہمیں زمیں کا پتہ تھا نہ آسماں کا تھا ہنسا جو پھول تو شبنم کی آنکھ بھر آئی بہار سمجھا جسے دور وہ خزاں کا تھا ہزار بار مرا زندگی میں جیتے جی وہ شخص خوف جسے مرگ ناگہاں کا ...