شاعری

رکھتے ہیں اپنے خوابوں کو اب تک عزیز ہم

رکھتے ہیں اپنے خوابوں کو اب تک عزیز ہم حالانکہ اس میں ہو گئے دل کے مریض ہم اس کے بیان سے ہوئے ہر دل عزیز ہم غم کو سمجھ رہے تھے چھپانے کی چیز ہم یہ کائنات تو کسے ملتی ہے چھوڑیئے اپنی ہی ذات سے نہ ہوئے مستفیض ہم چارہ گری کی بات کسی اور سے کرو اب ہو گئے ہیں یارو پرانے مریض ہم

مزید پڑھیے

دشت کو جا تو رہے ہو سوچ لو کیسا لگے گا

دشت کو جا تو رہے ہو سوچ لو کیسا لگے گا سب ادھر ہی جا رہے ہیں دشت میں میلہ لگے گا تیر بن کر خیر سے ہر دل پہ جب سیدھا لگے گا شعر میرا دشمنوں کو بھی بہت اچھا لگے گا خیر حشر آرزو پر تو تمہارا بس نہیں ہے آرزو تو کر لو یارو آرزو میں کیا لگے گا فصل گل جو کر رہی ہے سامنے ہے دیکھ لیجے میں ...

مزید پڑھیے

اس طرح پہنچے گا کیسے پایۂ تکمیل کو

اس طرح پہنچے گا کیسے پایۂ تکمیل کو آخری کہتا ہے کیوں تابوت کی ہر کیل کو خود ضرورت مند ہے روتا ہے خود ترسیل کو چاہیے پیغامبر اپنے لیے جبریل کو کب سے سوتا ہے کرو بیدار میکائیل کو ورنہ کافی کام مل جائے گا عزرائیل کو تو نے گو کوئی کسر چھوڑی نہیں رب کریم کام یہ کرنا پڑے گا پھر بھی ...

مزید پڑھیے

حالات نہ بدلیں تو اسی بات پہ رونا

حالات نہ بدلیں تو اسی بات پہ رونا بدلیں تو بدلتے ہوئے حالات پہ رونا پڑ جائے گا تم کو بھی غم ذات پہ رونا جس بات پہ ہنستے ہو اسی بات پہ رونا اظہار میں قوت ہے تو مل جائے گا موضوع سوکھا نہیں پڑتا ہے تو برسات پہ رونا اس شہر میں سب ٹھیک ہے کیا سوچ رہے ہو رونا ہے تو اپنے ہی خیالات پہ ...

مزید پڑھیے

دوست کا گھر اور دشمن کا پتہ معلوم ہے

دوست کا گھر اور دشمن کا پتہ معلوم ہے زندگی ہم کو ترا یہ سلسلہ معلوم ہے زندگی جا ہم بھی کوئے آرزو تک آ گئے اس کے آگے ہم کو سارا راستہ معلوم ہے کیا منجم سے کریں ہم اپنے مستقبل کی بات حال کے بارے میں ہم کو کون سا معلوم ہے یا تو جو نافہم ہیں وہ بولتے ہیں ان دنوں یا جنہیں خاموش رہنے کی ...

مزید پڑھیے

دن کے پاس کہاں جو ہم راتوں میں مال بناتے ہیں

دن کے پاس کہاں جو ہم راتوں میں مال بناتے ہیں بد حالوں کو خواب ہی شب بھر کو خوش حال بناتے ہیں اس کو تصور تک لانے میں آپ ہی کھو جاتے ہیں ہم خود ہی پھنس جاتے ہیں ہم اور خود ہی جال بناتے ہیں ادب کے بازاروں میں ان شعروں کی قیمت کیا معلوم ہم تو خالی کاری گر ہیں ہم تو مال بناتے ہیں ماہ و ...

مزید پڑھیے

اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا

اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا وہ بھی تو ملے ہم سے ہمیں اس سے ملیں کیا لشکر کو بچائیں گی یہ دو چار صفیں کیا اور ان میں بھی ہر شخص یہ کہتا ہے ہمیں کیا یہ تو سبھی کہتے ہیں کوئی فکر نہ کرنا یہ کوئی بتاتا نہیں ہم کو کہ کریں کیا گھر سے تو چلے آتے ہیں بازار کی جانب بازار میں یہ ...

مزید پڑھیے

خدا کو آزمانا چاہئے تھا

خدا کو آزمانا چاہئے تھا کسی کا دل دکھانا چاہئے تھا دکانیں شہر میں ساری نئی تھیں ہمیں سب کچھ پرانا چاہئے تھا نظریے فلسفے اپنی جگہ ہیں ہمیں شادی میں جانا چاہئے تھا تکلف روز روز اچھا نہیں ہے گلی میں بھی نہانا چاہئے تھا وہ دل میں تھی کہ گھر میں آگ تو تھی پڑوسی کو بتانا چاہئے ...

مزید پڑھیے

گھر میں بے چینی ہو تو اگلے سفر کی سوچنا

گھر میں بے چینی ہو تو اگلے سفر کی سوچنا پھر سفر ناکام ہو جائے تو گھر کی سوچنا ہجر میں امکان اتنے وصل صرف اک واقعہ وسعت صحرا میں کیا دیوار و در کی سوچنا یعنی گھر اور دشت دونوں لازم و ملزوم ہیں قاعدہ یہ ہے ادھر رہنا ادھر کی سوچنا اس طرح جینا کہ اوروں کا بھرم قائم رہے موت برحق ہے ...

مزید پڑھیے

اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے

اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے پکارنے کے لیے اک خدا ضروری ہے ہزار رنگ میں ممکن ہے درد کا اظہار ترے فراق میں مرنا ہی کیا ضروری ہے شعور شہر کے حالات کا نہیں سب کو بیان شہر کے حالات کا ضروری ہے کچھ ایسے شعر ہیں یارو جو ہم نہیں کہتے ہر ایک بات کا اظہار کیا ضروری ہے شجاعؔ موت سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 685 سے 5858