شاعری

عرض احوال دل زار کروں یا نہ کروں

عرض احوال دل زار کروں یا نہ کروں عشق سے اپنے خبردار کروں یا نہ کروں گوش دل سے کبھی وہ حال سنے یا نہ سنے وا میں اپنے لب گفتار کروں یا نہ کروں بوسہ اک اس سے جو مانگا تو لگا کہنے نہیں ہے شش و پنج کہ تکرار کروں یا نہ کروں کہیے اے حضرت دل کیا ہے صلاح دولت یار سے شکوۂ دیدار کروں یا نہ ...

مزید پڑھیے

اس بزم میں پاتے نہیں دل سوز کسی کو (ردیف .. ا)

اس بزم میں پاتے نہیں دل سوز کسی کو یاں شمع ہماری ہے نہ پروانہ ہمارا کس کے رخ روشن کا تصور ہے یہ دل میں ہے منزل خورشید سیہ خانہ ہمارا ناصح کی نصیحت سے ہے ضد اور بھی دل کو سنتا نہیں ہشیار کی دیوانہ ہمارا دل لے چکے پھر بوسے کی تکرار ہے بھیجا دو جنس ہی یا پھیر دو بیعانہ ہمارا ہم زلف ...

مزید پڑھیے

دل پھڑک جائے گا وہ شوخ جو خنداں ہوگا

دل پھڑک جائے گا وہ شوخ جو خنداں ہوگا اپنے خرمن کو نہ اس برق سے نقصاں ہوگا صبح محشر کا اگر چاک گریباں ہوگا میرے ماتم میں سر حور بھی عریاں ہوگا منکر سجدۂ آدم کو پشیمانی ہے وہ نہ سمجھا تھا کہ یہ رتبۂ انساں ہوگا خاک سلجھے گی تری زلف مری جانب سے کون جز باد صبا سلسلۂ جنباں ہوگا حسن ...

مزید پڑھیے

کھا کے تیغ نگہ یار دل زار گرا

کھا کے تیغ نگہ یار دل زار گرا مردم دید پکارے کہ وہ سردار گرا وائے رسوائی دل عام ہوئی عشق کی بو شیشۂ مشک بغل سے سر بازار گرا نہ اٹھا خاک مذلت سے کبھی مثل سرشک جو نظر سے ترے اے شوخ جفا کار گرا قدم اندازہ سے باہر نہ کبھی رکھ اے دل جو چلا دوڑ کے آخر دم رفتار گرا ناتوانی نے بتایا ہے ...

مزید پڑھیے

تم اپنے مریض غم ہجراں کی خبر لو

تم اپنے مریض غم ہجراں کی خبر لو سونپا ہے اگر درد تو درماں کی خبر لو ہنستے ہو عبث حال پریشاں پہ ہمارے اپنی تو ذرا زلف پریشاں کی خبر لو یوں اور مجھے خلق میں بد نام کرو گے بس ہوش سنبھالو بھی گریباں کی خبر لو کس کام یہ آئے گی مسیحائی تمہاری احسان کرو عاشق بے جاں کی خبر لو پھیلے ...

مزید پڑھیے

جاتا ہے یار سیر کو گل زار کی طرف

جاتا ہے یار سیر کو گل زار کی طرف میری نگاہ ہے گل رخسار کی طرف ہوتی ہے میرے سامنے تصویر یار کی جب دیکھتا ہوں میں در و دیوار کی طرف یارب ہو خیر آج کہ کچھ دیکھتا ہے وہ میری طرف کبھی کبھی تلوار کی طرف کرتا ہے قتل عاشق مسکیں کو بزم میں دزدیدہ دیکھنا ترا اغیار کی طرف حسرت ہے یہ مریں ...

مزید پڑھیے

خطیب اعظم (سید عطاء اللہ شاہ بخاری)۔

خطیب اعظم عرب کا نغمہ عجم کی لے میں سنا رہا ہے سر چمن چہچہا رہا ہے سر وغا مسکرا رہا ہے حدیث سرو و سمن نچھاور زبان شمشیر اس پہ قرباں مسیلمہ ایسے جعل سازوں کی بیخ و بنیاد ڈھا رہا ہے قرون اولی کی رزم گاہوں سے مرتضیٰ کا جلال لے کر دبیز نیندیں جھنجھوڑتا ہے مجاہدوں کو جگا رہا ہے ہیں اس ...

مزید پڑھیے

اقبال سے ہم کلامی

کل اذان صبح سے پہلے فضائے قدس میں میں نے دیکھا کچھ شناسا صورتیں ہیں ہم نشیں تھے حکیم شرق سے شیخ مجدد ہم کلام گوش بر آواز سب دانش وران علم و دیں بوالکلام آزاد سے غالبؔ تھے مصروف سخن میرؔ و مومنؔ دور حاضر کی غزل پہ نکتہ چیں اس سے کچھ ہٹ کر گلابی شاخچوں کی چھاؤں میں تھے ولی اللہ کے ...

مزید پڑھیے

ہجر و وصال

خود اپنے دل کا خون فضا میں اچھال کے مضموں لکھے ہیں ہم نے فراق و وصال کے کچھ سانحوں کی یاد ہے عنوان روز و شب کچھ حادثے ہیں نوک زباں ماہ و سال کے اک ناتمام درد شریک چمن رہا شاخوں پہ کونپلوں کی نقابیں اجال کے صحن حرم سے انجمن مے فروش تک دو گام فاصلہ ہے ذرا دیکھ بھال کے پچھتا رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

تجھ تک گزر کسی کا اے گل بدن نہ دیکھا

تجھ تک گزر کسی کا اے گل بدن نہ دیکھا باد صبا نے اب تک تیرا چمن نہ دیکھا میلا ہو رنگ اس کا گر چاندنی میں نکلے چشم فلک نے ایسا نازک بدن نہ دیکھا عریاں نہ وہ نہایا حمام ہو کہ دریا چشم حباب نے بھی اس کا بدن نہ دیکھا ملتی ہے میرے دل کو قاتل کی خوش خرامی دیکھا زمانہ لیکن ایسا چلن نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 681 سے 5858