شاعری

نظروں سے غبار چھٹ گئے ہیں

نظروں سے غبار چھٹ گئے ہیں چہروں سے نقاب الٹ گئے ہیں فرقت کے طویل راستے تھے یادوں سے تری سمٹ گئے ہیں جس رہ پہ پڑے ہیں تیرے سائے اس راہ سے ہم لپٹ گئے ہیں دن کیسے کٹھن تھے زندگی کے کیا جانیے کیسے کٹ گئے ہیں تقسیم ہوئے تھے کچھ نصیبے کیا کہیے کہاں پہ بٹ گئے ہیں ابھرے تھے بھنور سے ...

مزید پڑھیے

آنکھیں کھلی تھیں سب کی کوئی دیکھتا نہ تھا

آنکھیں کھلی تھیں سب کی کوئی دیکھتا نہ تھا اپنے سوا کسی کا کوئی آشنا نہ تھا یوں کھو گیا تھا حسن ہجوم نگاہ میں اہل نظر کو اپنی نظر کا پتا نہ تھا دھندلا گئے تھے نقش محبت کچھ اس طرح پہچانتی تھی آنکھ تو دل مانتا نہ تھا تم پاس تھے تمہیں تو ہوئی ہوگی کچھ خبر اتنا تو اپنا شیشۂ دل بے صدا ...

مزید پڑھیے

کاوش بیش و کم کی بات نہ کر

کاوش بیش و کم کی بات نہ کر چھوڑ دام و درم کی بات نہ کر دیکھ کیا کر رہے ہیں اہل زمیں آسماں کے ستم کی بات نہ کر اپنی آہ و فغاں کے سوز کو دیکھ ساز کے زیر و بم کی بات نہ کر یوں بھی طوفان غم ہزاروں ہیں عشق کی چشم نم کی بات نہ کر سخت الجھی ہیں زیست کی راہیں زلف کے پیچ و خم کی بات نہ کر آج ...

مزید پڑھیے

جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے

جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے درد کے عنواں بدل کر رہ گئے کتنی فریادیں لبوں پر رک گئیں کتنے اشک آہوں میں ڈھل کر رہ گئے رخ بدل جاتا مری تقدیر کا آپ ہی تیور بدل کر رہ گئے کھل کے رونے کی تمنا تھی ہمیں ایک دو آنسو نکل کر رہ گئے زندگی بھر ساتھ دینا تھا جنہیں دو قدم ہم راہ چل کر رہ ...

مزید پڑھیے

غم نصیبوں کو کسی نے تو پکارا ہوگا

غم نصیبوں کو کسی نے تو پکارا ہوگا اس بھری بزم میں کوئی تو ہمارا ہوگا آج کس یاد سے چمکی تری چشم پر نم جانے یہ کس کے مقدر کا ستارا ہوگا جانے اب حسن لٹائے گا کہاں دولت درد جانے اب کس کو غم عشق کا یارا ہوگا ترے چھپنے سے چھپیں گی نہ ہماری یادیں تو جہاں ہوگا وہیں ذکر ہمارا ہوگا یوں ...

مزید پڑھیے

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے یہ اور بات ہے دنیا نظر نہ پہچانے وہ بزم دیکھی ہے میری نگاہ نے کہ جہاں بغیر شمع بھی جلتے رہے ہیں پروانے یہ کیا بہار کا جوبن یہ کیا نشاط کا رنگ فسردہ میکدے والے اداس مے خانے مرے ندیم تری چشم التفات کی خیر بگڑ بگڑ کے سنورتے گئے ہیں افسانے یہ ...

مزید پڑھیے

کسی میں تاب الم نہیں ہے کسی میں سوز وفا نہیں ہے

کسی میں تاب الم نہیں ہے کسی میں سوز وفا نہیں ہے سنائیں کس کو حکایت غم کہ کوئی درد آشنا نہیں ہے ہم انقلاب فلک کے ہاتھوں بہت ستائے ہوئے ہیں یارب یہ نالۂ بیکسی ہمارا شکایت ناروا نہیں ہے ہجوم وارفتگی کے ہاتھوں جو جاں چلی تو کھلا یہ عقدہ کہ تار و پود خیال دل بر سے رشتۂ جاں جدا نہیں ...

مزید پڑھیے

اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی

اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں جس سمت نظر اٹھی آواز تری آئی اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ اک گوشۂ خلوت میں یہ دشت کی پہنائی اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں ...

مزید پڑھیے

سایوں سے لپٹ رہے تھے سائے

سایوں سے لپٹ رہے تھے سائے دل پھر بھی فضا میں جگمگائے بے صرفہ بھٹک رہی تھیں راہیں ہم نور سحر کو ڈھونڈ لائے یہ گردش روزگار کیا ہے ہم شام و سحر کو دیکھ آئے ہر صبح تری نظر کا پرتو ہر شام تری بھوؤں کے سائے ہے فصل بہار کا یہ دستور جو آئے چمن میں مسکرائے کیا چیز ہے یہ فسانۂ دل جب کہنے ...

مزید پڑھیے

وہ تھے پہلو میں اور تھی چاندنی رات

وہ تھے پہلو میں اور تھی چاندنی رات ہماری زندگی تھی بس وہی رات عجب چشمک زنی تھی وصل کی رات نظر ان کی تھی اور تاروں بھری رات نگاہ مست ان کی کہہ رہی ہے کہیں ہوتی رہی ساقی گری رات عبث ہے وعدۂ فردا تمہارا مریض عشق کی ہے آخری رات کسی نے وعدۂ فردا کیا ہے ہمیں مر کر بسر کرنی پڑی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 621 سے 5858