شاعری

کیا ہوا جو ستارے چمکتے نہیں داغ دل کے فروزاں کرو دوستو

کیا ہوا جو ستارے چمکتے نہیں داغ دل کے فروزاں کرو دوستو صبح عشرت پریشاں ہوئی سو ہوئی شام غم تو نہ ویراں کرو دوستو نا شناساؤں کی طرفہ غم خواریاں غم کے ماروں کا سب سے بڑا روگ ہے دور الفت کی چارہ گری ہو نہ ہو پہلے اس دکھ کا درماں کرو دوستو تلملاتی رہیں ہجر کی کلفتیں جام و مینا کی سر ...

مزید پڑھیے

کس نے غم کے جال بکھیرے

کس نے غم کے جال بکھیرے صبح اندھیرے شام سویرے اس دنیا میں کام نہ آئے آنسو تیرے آنسو میرے رات کی کیفیت یاد آئی شام ہوئی ہے صبح سویرے حسن کا دامن پھر بھی خالی عشق نے لاکھوں اشک بکھیرے مجھ کو دنیا سے کیا مطلب دل بھی میرا تم بھی میرے رنگیں رنگیں عشق کی راہیں منزل منزل حسن کے ...

مزید پڑھیے

جان دے کر وفا میں نام کیا

جان دے کر وفا میں نام کیا زندگی بھر میں ایک کام کیا بے نقاب آ گیا سر محفل یار نے آج قتل عام کیا آسماں بھی اسے ستا نہ سکا تو نے جس دل کو شاد کام کیا عشق بازی تھا کام رندوں کا تو نے اس خاص شے کو عام کیا اب کے یونہی گزر گئی برسات ہم نے خالی نہ ایک جام کیا

مزید پڑھیے

اٹھی ہے جو قدموں سے وہ دامن سے اڑی ہے

اٹھی ہے جو قدموں سے وہ دامن سے اڑی ہے کیا کیا نگہ شوق پہ زنجیر پڑی ہے وہ یاس کا عالم ہے کہ ہر ایک نظر پر محسوس یہ ہوتا ہے جدائی کی گھڑی ہے یوں دیکھیے تو مرحلۂ شوق ہے یک گام چلیے تو یہی ایک قدم راہ کڑی ہے ہر ایک قدم پر ہے کسی یاد کا سایہ ہر راہ گزر میں کوئی دیوار کھڑی ہے ہر غنچے کے ...

مزید پڑھیے

ایسے بھی تھے کچھ حالات

ایسے بھی تھے کچھ حالات دل سے چھپائی دل کی بات ہر اک نے اک بات کہی کوئی نہ سمجھا دل کی بات شام و سحر کا نام نہ تھا ایسے بھی دیکھے دن اور رات عشق کی بازی کیا کہیے سوچ سمجھ کر کھائی مات دل کے ہاتھوں ہم مجبور دل کی لاج پرائے ہات حسن کے تیور کیا کہنے ہر لحظہ اک تازہ بات اشکوں کا ...

مزید پڑھیے

وہ حسن کو جلوہ گر کریں گے

وہ حسن کو جلوہ گر کریں گے آرائش بام و در کریں گے ہر گوشے میں ہوگی خود نمائی ہر ذرے کو رہ گزر کریں گے ہنس ہنس کے کریں گے چارہ سازی سامان دل و نظر کریں گے ہم بھی سر راہ منتظر ہیں دیکھیں کب ادھر نظر کریں گے افسانۂ غم طویل ہے دوست اس بات کو مختصر کریں گے ہے شام فراق سخت تاریک اس شام ...

مزید پڑھیے

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے یہ اور بات ہے دنیا نظر نہ پہچانے وہ بزم دیکھی ہے میری نگاہ نے کہ جہاں بغیر شمع بھی جلتے رہے ہیں پروانے یہ کیا بہار کا جوبن یہ کیا نشاط کا رنگ فسردہ میکدے والے اداس مے خانہ مرے ندیم تری چشم التفات کی خیر بگڑ بگڑ کے سنورتے گئے ہیں افسانے یہ ...

مزید پڑھیے

حسن مجبور جفا ہے شاید

حسن مجبور جفا ہے شاید یہ بھی اک طرز ادا ہے شاید ایک غم ناک سی آتی ہے صدا کوئی دل ٹوٹ رہا ہے شاید خود فراموش ہوا جاتا ہوں تو مجھے بھول گیا ہے شاید ان حسیں چاند ستاروں میں کہیں تیرا نقش کف پا ہے شاید ایک دنیا سے ہوئے بیگانے تجھ سے ملنے کا صلا ہے شاید ہر گھڑی اشک فشاں ہیں ...

مزید پڑھیے

افسانہ ہائے درد سناتے چلے گئے

افسانہ ہائے درد سناتے چلے گئے خود روئے دوسروں کو رلاتے چلے گئے بھرتے رہے الم میں فسون طرب کا رنگ ان تلخیوں میں زہر ملاتے چلے گئے اپنے نیاز شوق پہ تھا زندگی کو ناز ہم زندگی کے ناز اٹھاتے چلے گئے ہر اپنی داستاں کو کہا داستان غیر یوں بھی کسی کا راز چھپاتے چلے گئے میں جتنا ان کی ...

مزید پڑھیے

نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں

نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں کسی کے آنے کی ہم لے کے آس بیٹھے ہیں نظر اٹھا کے کوئی ہم کو دیکھتا بھی نہیں اگرچہ بزم میں سب روشناس بیٹھے ہیں الٰہی کیا مری رخصت کا وقت آ پہنچا یہ چارہ ساز مرے کیوں اداس بیٹھے ہیں الٰہی کیوں تن مردہ میں جاں نہیں آتی وہ بے نقاب ہیں تربت کے پاس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 620 سے 5858