کیا ہوا جو ستارے چمکتے نہیں داغ دل کے فروزاں کرو دوستو
کیا ہوا جو ستارے چمکتے نہیں داغ دل کے فروزاں کرو دوستو صبح عشرت پریشاں ہوئی سو ہوئی شام غم تو نہ ویراں کرو دوستو نا شناساؤں کی طرفہ غم خواریاں غم کے ماروں کا سب سے بڑا روگ ہے دور الفت کی چارہ گری ہو نہ ہو پہلے اس دکھ کا درماں کرو دوستو تلملاتی رہیں ہجر کی کلفتیں جام و مینا کی سر ...