شاعری

رات دن

کیسے اللہ نے بنائے رات دن کیسی حکمت سے سجائے رات دن صبح آئی تو اجالا آ گیا شام آئی تو اندھیر چھا گیا دن ہوا تو لوگ سارے جاگ اٹھے رات آئی چاند تارے جاگ اٹھے دن بنا ہے کام کرنے کے لیے رات ہے آرام کرنے کے لیے کوئی ہو انسان یا حیوان ہو جانور ہو یا کوئی بے جان ہو رات ان کے ڈھنگ ہی ...

مزید پڑھیے

کیا چیز لو گے

کیا چیز لو گے چمچہ کہ تھالی تھالی بھری ہے چمچہ ہے خالی میں لوں گا تھالی کیا چیز لو گے روٹی کہ کیلا روٹی ہے سب کی میں ہوں اکیلا میں لوں گا کیلا کیا چیز لو گے کیلا کہ بستہ بستہ ہے میرا پھولوں کا دستہ میں لوں گا بستہ تب تم کو مانوں مل جائے سب کچھ کہتے تھے تب کچھ دیتے ہو اب کچھ میں ...

مزید پڑھیے

داستان غم ہم نے کہہ بھی دی تو کیا ہوگا

داستان غم ہم نے کہہ بھی دی تو کیا ہوگا اور بڑھ گئی دل کی بے کلی تو کیا ہوگا عمر رفتہ کے قصے دوستو نہ دہراؤ کوئی یاد خوابیدہ جاگ اٹھی تو کیا ہوگا زندگی تو اپنی ہے لٹ گئی تو پھر کیا غم غم تری امانت ہے چھن گئی تو کیا ہوگا درد سے سنواری ہے روح زندگی ہم نے درد کو نہ راس آئی زندگی تو ...

مزید پڑھیے

زندگی کیا ہے اک سفر کے سوا

زندگی کیا ہے اک سفر کے سوا ایک دشوار رہ گزر کے سوا کیا ملا تشنۂ محبت کو ایک محروم سی نظر کے سوا عشق کے درد کی دوا کیا ہے سب سمجھتے ہیں چارہ گر کے سوا کچھ نہیں غم گساریٔ احباب اہتمام غم دگر کے سوا کتنی تنہا تھیں عقل کی راہیں کوئی بھی تھا نہ چارہ گر کے سوا دولت سجدہ ہو سکی نہ ...

مزید پڑھیے

زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ

زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ پکار اٹھی ہے میری بے زبانی دیکھتے جاؤ کہاں جاتے ہو الفت کا فسانہ چھیڑ کر ٹھہرو پہنچتی ہے کہاں اب یہ کہانی دیکھتے جاؤ تری ظالم محبت نے جسے بد نام کر ڈالا اسی مظلوم کی رسوا جوانی دیکھتے جاؤ سناتا ہے کوئی محرومیوں کی داستاں سن لو اجڑتی ہے ...

مزید پڑھیے

رسم مہر و وفا کی بات کریں

رسم مہر و وفا کی بات کریں پھر کسی دل ربا کی بات کریں سخت بیگانۂ حیات ہے دل آؤ اس آشنا کی بات کریں زلف و رخسار کے تصور میں حسن و ناز و ادا کی بات کریں گیسوؤں کے فسانے دہرائیں اپنے بخت رسا کی بات کریں مدعائے وفا کسے معلوم دل بے مدعا کی بات کریں کشتئ دل کا ناخدا دل ہے کیوں کسی ...

مزید پڑھیے

یہ آج آئے ہیں کس اجنبی سے دیس میں ہم (ردیف .. ے)

یہ آج آئے ہیں کس اجنبی سے دیس میں ہم تڑپ گئی ہے نظر چشم آشنا کے لئے وہ ہاتھ جن سے تھا کل چاک دامن افلاک وہ ہاتھ آج اٹھانے پڑے دعا کے لئے یہ میں نے مانا جدائی مرا مقدر ہے مگر یہ بات نہ منہ سے کہو خدا کے لئے یہ راہرو تھے کبھی راہ زندگی کا سراغ یہ راہرو کہ بھٹکتے ہیں رہنما کے لئے

مزید پڑھیے

نظر کو حال دل کا ترجماں کہنا ہی پڑتا ہے

نظر کو حال دل کا ترجماں کہنا ہی پڑتا ہے خموشی کو بھی اک طرز بیاں کہنا ہی پڑتا ہے جہاں ہر گام پر سجدے ٹپکتے ہیں جبینوں سے وہاں ہر نقش پا آستاں کہنا ہی پڑتا ہے جہاں لب کوشش اظہار‌ مطلب کو ترستے ہیں وہاں ہر سانس کو اک داستاں کہنا ہی پڑتا ہے اگر قلب و نظر میں وسعتیں ہوں تیرے جلووں ...

مزید پڑھیے

اگرچہ آنکھ بہت شوخیوں کی زد میں رہی

اگرچہ آنکھ بہت شوخیوں کی زد میں رہی مری نگاہ ہمیشہ ادب کی حد میں رہی سمجھ سکا نہ کوئی زندگی کی ارزش کو یہ جنس خاص ترازوئے نیک و بد میں رہی بہت بلند ہوا تمکنت سے تاج شہی کلاہ فقر مگر نازش نمد میں رہی ہمیشہ درد سے عاری رہا یہ زاہد خشک یہ نعش زندہ سدا گوشۂ لحد میں رہی دلوں میں ...

مزید پڑھیے

مٹی مٹی ہوئی یادوں کے داغ کیا جلتے؟

مٹی مٹی ہوئی یادوں کے داغ کیا جلتے؟ نہ تھی شراب میں گرمی ایاغ کیا جلتے؟ فسردہ ہو گئے صحن چمن کے پروانے ملا نہ آتش گل کا سراغ کیا جلتے؟ دبے دبے رہے سینے میں آرزو کے داغ تمہارے حسن کے آگے چراغ کیا جلتے؟ بہار میں بھی جگر سوزئ بہار نہ تھی یہ کوہ و دشت و چمن باغ و راغ کیا جلتے؟ جلن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 619 سے 5858