شاعری

خوب رو جو ایک کا محبوب نہیں

خوب رو جو ایک کا محبوب نہیں ایسے ہرجائی سے ملنا خوب نہیں چولی نیچی مت پہن اے جامہ زیب اس میں چھب تختی کا کچھ اسلوب نہیں میں تو طالب دل سے ہوں گا دین کا دولت دنیا مجھے مطلوب نہیں صبر کب تک ہجر میں تیرے کروں میں ترا عاشق ہوں کوئی ایوب نہیں یار کی تاباںؔ زنخداں کو نہ چاہ دیکھ کہتا ...

مزید پڑھیے

مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں

مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں کرتا ہے میرے قتل کو تو کیوں شتابیاں میرا ہی خانماں نہیں ویراں ہوا کوئی بہتوں کی کی ہیں عشق نے خانہ خرابیاں خوان فلک پہ نعمت الوان ہے کہاں خالی ہے مہر و ماہ کی دونوں رکابیاں ہرگز خم فلک میں نہیں ہے شراب عشق غنچوں کی خون دل سے بھری ہیں ...

مزید پڑھیے

تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش

تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش بلا سے تیری میں نا خوش ہوں یا خوش خوشی تیری جسے ہر دم ہو درکار کوئی اس سے نہیں ہوتا ہے نا خوش کوئی اب کے زمانہ میں نہ ہوگا الٰہی آشنا سے آشنا خوش فلک کے ہاتھ سے اے خالق خلق کوئی نہیں آ کے دنیا میں رہا خوش ترا سایہ ہو جس پر اس کو ہرگز نہ آوے سایۂ ...

مزید پڑھیے

کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبس

کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبس یہ نفس ہوس ناک و بد آموز و مہوس بے شبہ تری ذات خداوند خلائق اعلیٰ ہے تعالی ہے معلیٰ ہے مقدس وہ کام تو کر جس سے تری گور ہو گل زار کیا خانئہ دیوار کو کرتا ہے مقرنس مدفن کے تئیں آگے ہی منعم نہ بنا رکھ کیا جانیے واں دفن ہو یا کھائے گا کرگس ہے وصل ترا ...

مزید پڑھیے

دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلک

دلبر سے درد دل نہ کہوں ہائے کب تلک خاموش اس کے غم میں رہوں ہائے کب تلک اس شوخ سے جدا میں رہوں ہائے کب تلک یہ ظلم یہ ستم میں سہوں ہائے کب تلک رہتا ہے روز ہجر میں ظالم کے غم مجھے اس دکھ سے دیکھیے کہ چھٹوں ہائے کب تلک آئی بہار جائیے صحرا میں شہر چھوڑ مج کو جنوں ہے گھر میں رہوں ہائے ...

مزید پڑھیے

تم سے اب کامیاب اور ہی ہے

تم سے اب کامیاب اور ہی ہے آہ ہم پر عذاب اور ہی ہے اس کو آئینہ کب پہنچتا ہے حسن کی آب و تاب اور ہی ہے رند واعظ سے کیوں کہ سربر ہو اس کی چھو، کی کتاب اور ہی ہے ہجر بھی کم نہیں ہے دوزخ سے اس سفر کا عذاب اور ہی ہے اس کو لگتی ہے کب کوئی تلوار تیغ ابرو کی آب اور ہی ہے یوں تو ہے سرخ یار کا ...

مزید پڑھیے

نمکیں حرف ہے مرا یہ فصیح

نمکیں حرف ہے مرا یہ فصیح کل شئ من الملیح ملیح و قنا ربنا عذاب النار شمع کی ہے ہمیشہ یہ تسبیح لمن الماء کل شئ حی شرب مے سے ہوا ہے مجھ کو صحیح مثلہ لیس واحد غرا ماہ کنعاں بھی تھا اگرچہ فصیح جی میں آوے سو کہہ تو تاباںؔ کو لیس من فیک شتمنا بقبیح

مزید پڑھیے

یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح

یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح منتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرح جب تلک تم کو نہ دیکھوں تب تلک بے چین ہوں میں تمہارے پاس ہر ساعت نہ آؤں کس طرح دل دھڑکتا ہے مبادا اٹھ کے دیوے گالیاں یار سوتا ہے مرا اس کو جگاؤں کس طرح بلبلوں کے حال پر آتا ہے مج کو رحم آج دام سے صیاد کے ان کو ...

مزید پڑھیے

تیری مخمور چشم اے مے نوش

تیری مخمور چشم اے مے نوش جن نے دیکھی سو ہو گیا خاموش کئی فاقوں میں عید آئی ہے آج تو ہو تو جان ہم آغوش اپنے تئیں سر پہ ہاتھ جو نہ رکھے اس کے سر پہ نہ ماریے پاپوش عشق میں میں ترے ہوا مجنوں کس کو ہے عقل اور کہاں ہے ہوش پالکی بھی مجھے خدا نے دی تو بھی تاباںؔ رہا میں خانہ بدوش

مزید پڑھیے

کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگز

کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگز عبث اپنا دل اے بلبل چمن میں مت لگا ہرگز طبیبوں سے علاج عشق ہوتا ہے نپٹ مشکل ہمارے درد کی ان سے نہیں ہونے کی دوا ہرگز تجا گھر ایک اور سارے بیاباں کا ہوا وارث کوئی مجنوں سا عیارا نہ ہوگا دوسرا ہرگز بہار آئی ہے کیوں کر عندلیبیں باغ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 605 سے 5858