غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں
غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں چاہنے والے کو ہوتا بھی ہے آرام کہیں وصل ہو وصل الٰہی کہ مجھے تاب نہیں دور ہوں دور مرے ہجر کے ایام کہیں لگ رہی ہیں ترے عاشق کی جو آنکھیں چھت سے تج کو دیکھا تھا مگر ان نے لب بام کہیں عاشقوں کے بھی لڑانے کی تجھے کیا ڈھب ہے چشم بازی ہے کہیں بوسہ ...