شاعری

عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھر

عزیزاں ستم گر نہ آیا مرے گھر نہ آیا مرے گھر عزیزاں ستم گر محبت تو مت کر دل اس بے وفا سے دل اس بے وفا سے محبت تو مت کر لگا دل میں خنجر تمہاری نگہ کا تمہاری نگہ کا لگا دل میں خنجر ہوا کیوں مکدر تو اے آئنہ رو تو اے آئنہ رو ہوا کیوں مکدر وہ ایذا مکرر تجھے دے گا تاباںؔ تجھے دے گا ...

مزید پڑھیے

اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کا

اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کا مذہب میں مرے کفر ہے انکار بتاں کا لگتی وہ تجلی شرر سنگ کے مانند موسی تو اگر دیکھتا دیدار بتاں کا گردن میں مرے طوق ہے زنار کے مانند ہوں عشق میں ازبسکہ گنہ گار بتاں کا دونوں کی ٹک اک سیر کر انصاف سے اے شیخ کعبے سے ترے گرم ہے بازار بتاں کا دوں ساری ...

مزید پڑھیے

خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں

خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں ان کی سجوں کو دیکھ مریں کیوں نہ لولیاں ہونٹوں میں جم رہی ہے ترے آج کیوں دھری بھیجی تھیں کس نے رات کو پانوں کی ڈھولیاں جس دن سے انکھڑیاں تری اس کو نظر پڑیں بادام نے خجل ہو پھر آنکھیں نہ کھولیاں تارے نہیں فلک پہ تمہارے نثار کو لایا ہے موتیوں سے ...

مزید پڑھیے

سنو

اطراف میں اپنے جو پھیلی روشنی محسوس کرتی ہوں تو لگتا ہے کہ جیسے تم کہیں پر ہو یہیں پر ہو یہ میرا خواب مت سمجھو کہو تو سچ کہوں میں واقعی لگتا ہے جیسے تم کہیں پر ہو یہیں پر ہو کسی چوکھٹ پہ چڑھتی اک لچکتی شاخ پر پھولوں کے جھرمٹ میں نہاں پھولوں سے بڑھ کر ہو بڑھا کر ہاتھ کوئی جس کو چھو ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی نقش سلامت نہیں ہے چہرے کا

کوئی بھی نقش سلامت نہیں ہے چہرے کا بدل گیا ہے کچھ ایسا چلن زمانے کا میں کس لیے تجھے الزام بے وفائی دوں کہ میں تو آپ ہی پتھر ہوں اپنے رستے کا کوئی ہے رنگ کوئی روشنی کوئی خوشبو جدا جدا ہے تأثر ہر ایک لمحے کا وہ تیرگی ہے مسلط کہ آسمانوں پر سراغ تک نہیں ملتا کسی ستارے کا غضب تو یہ ...

مزید پڑھیے

منزلوں اس کو آواز دیتے رہے منزلوں جس کی کوئی خبر بھی نہ تھی

منزلوں اس کو آواز دیتے رہے منزلوں جس کی کوئی خبر بھی نہ تھی دامن شب میں کوئی ستارہ نہ تھا شمع کوئی سر رہ گزر بھی نہ تھی اک بگولہ اٹھا دشت میں کھو گیا اک کرن تھی جو ظلمت میں گم ہو گئی زندگی جس کو سمجھے تھے ہم زندگی زندگی مثل رقص شرر بھی نہ تھی فصل گل سے تھا آباد صحن چمن فصل گل جو ...

مزید پڑھیے

دل کے صحرا میں بڑے زور کا بادل برسا

دل کے صحرا میں بڑے زور کا بادل برسا اتنی شدت سے کوئی رات مجھے یاد آیا جس سے اک عمر رہا دعویٔ قربت مجھ کو ہائے اس نے نہ کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھا تو مری منزل مقصود ہے لیکن ناپید میں تری دھن میں شب و روز بھٹکنے والا پھیل جاتا ترے ہونٹوں پہ تبسم کی طرح کاش حالات کا پہلو کبھی ہو ...

مزید پڑھیے

صبح بہار و شام خزاں کچھ نہ کچھ تو ہو

صبح بہار و شام خزاں کچھ نہ کچھ تو ہو بے نام زندگی کا نشاں کچھ نہ کچھ تو ہو خاموشیوں کی آگ میں جلتا ہے مے کدہ دل دادگان شعلہ رخاں کچھ نہ کچھ تو ہو جینے کے واسطے کوئی صورت تو چاہیے ہو شمع انجمن کہ دھواں کچھ نہ کچھ تو ہو چپ چپ ہے موج اور کنارے اداس ہیں اے زندگی کے سیل رواں کچھ نہ کچھ ...

مزید پڑھیے

ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے

ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے ستم گر بے مروت بے وفا بے رحم اچپل کے غزالوں کو تری آنکھیں سے کچھ نسبت نہیں ہرگز کہ یہ آہو ہیں شہری اور وے وحشی ہیں جنگل کے گرفتاری ہوئی ہے دل کو میرے بے طرح اس سے کہ آئے پیچ میں کہتے ہی ان کی زلف کے بل کے یہ دولت مند اگر شب کو نہیں یارو تو ...

مزید پڑھیے

اے ہم راز

یہ اجلی سی زمیں نظروں کی حد سے اور آگے تک شجر پھیلے چلے جاتے ہیں اپنی حد سے آگے تک مرے کمرے کی سب چنگاریاں شاخوں پہ چمکی ہیں مرے بالوں پہ بکھری ہیں مرے آنچل سے سمٹی ہیں سحر کی پھوٹتی کرنیں تڑپ آئی دریچے سے لپٹ کر کھیلتی ہیں میرے گھر کے فرش مخمل سے تعیش کے ہر اک سامان پر اک نور بکھرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 606 سے 5858