سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں
سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں کیا بلبلوں نے دیکھو دھومیں مچائیاں ہیں بیمار ہو زمیں سے اٹھتے نہیں عصا بن نرگس کو تم نے شاید آنکھیں دکھائیاں ہیں دیکھ اس کو آئنہ بھی حیران ہو گیا ہے چہرے پہ جان تیرے ایسی صفائیاں ہیں خورشید اس کو کہئے تو جان ہے وہ پیلا گر مہ کہوں ترا منہ تو ...