شاعری

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے میں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہے میں اب کے سال پرندوں کا دن مناؤں گا مری قریب کے جنگل سے بات ہو گئی ہے بچھڑ کے تجھ سے نہ خوش رہ سکوں گا سوچا تھا تری جدائی ہی وجہ نشاط ہو گئی ہے بدن میں ایک طرف دن طلوع میں نے کیا بدن کے دوسرے حصے میں رات ہو ...

مزید پڑھیے

شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا

شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا خاموشی سے اپنا رونا رو لوں گا ساری عمر اسی خواہش میں گزری ہے دستک ہوگی اور دروازہ کھولوں گا تنہائی میں خود سے باتیں کرنی ہیں میرے منہ میں جو آئے گا بولوں گا رات بہت ہے تم چاہو تو سو جاؤ میرا کیا ہے میں دن میں بھی سو لوں گا تم کو دل کی بات ...

مزید پڑھیے

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیں

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیں دل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیں سرخ لبوں سے سبز دعائیں پھوٹی ہیں پیلے پھولوں تم کو نیلی آنکھیں دیکھیں سال ہونے کو آیا ہے وہ کب لوٹے گا آؤ کھیت کی سیر کو نکلیں کونجیں دیکھیں تھوڑی دیر میں جنگل ہم کو عاق کرے گا برگد دیکھیں یا برگد کی ...

مزید پڑھیے

جب کسی ایک کو رہا کیا جائے

جب کسی ایک کو رہا کیا جائے سب اسیروں سے مشورہ کیا جائے رہ لیا جائے اپنے ہونے پر اپنے مرنے پہ حوصلہ کیا جائے عشق کرنے میں کیا برائی ہے ہاں کیا جائے بارہا کیا جائے میرا اک یار سندھ کے اس پار ناخداؤں سے رابطہ کیا جائے میری نقلیں اتارنے لگا ہے آئینے کا بتاؤ کیا کیا جائے خامشی سے ...

مزید پڑھیے

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا کمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے میں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتے اور پھر میں بادل پہ سایہ کرتا تھا بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دن دریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا بنت صحرا روٹھا کرتی ...

مزید پڑھیے

عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی

عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی وہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھی وہ اک چراغ کدہ جس میں کچھ نہیں تھا مرا جو جل رہی تھی وہ قندیل بھی پرائی تھی نہ جانے کتنے پرندوں نے اس میں شرکت کی کل ایک پیڑ کی تقریب رو نمائی تھی ہواؤ آؤ مرے گاؤں کی طرف دیکھو جہاں یہ ریت ہے پہلے یہاں ترائی ...

مزید پڑھیے

زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں

زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں میں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیں باہر آنے کی بھی سکت نہیں ہم میں تو نے کس موسم میں پنجرے کھولے ہیں برسوں سے آوازیں جمتی جاتی تھیں خاموشی نے کان کے پردے کھولے ہیں کون ہماری پیاس پہ ڈاکا ڈال گیا کس نے مشکیزوں کے تسمے کھولے ہیں ورنہ دھوپ کا ...

مزید پڑھیے

ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہو

ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہو میرے لئے ذرا بھی ضروری نہیں کہ ہو رہتا ہے ذہن و دل میں جو احساس کی طرح اس کا کوئی پتا بھی ضروری نہیں کہ ہو انسان سے ملو بھی تو انسان جان کر ہر شخص دیوتا بھی ضروری نہیں کہ ہو کس نے تمہیں زبان عطا کی کہ آج تم کہتے ہو جو خدا بھی ضروری نہیں کہ ...

مزید پڑھیے

اک انوکھی رسم کو زندہ رکھا ہے

اک انوکھی رسم کو زندہ رکھا ہے خون ہی نے خون کو پسپا رکھا ہے اب جنون خود نمائی میں تو ہم نے وحشتوں کا اک دریچہ وا رکھا ہے شہر کیسے اب حقیقت آشنا ہو آگہی پر ذات کا پہرہ رکھا ہے تیرگی کی کیا عجب ترکیب ہے یہ اب ہوا کے دوش پر دیوا رکھا ہے تم چراغوں کو بجھانے پر تلے ہو ہم نے سورج کو ...

مزید پڑھیے

حرف

وہ حرف آخر کہاں گیا ہے وہ حرف جس کی تہوں میں اپنی محبتوں کی جو اک کہانی چھپی ہوئی تھی وہ اک کہانی کہ جس کی رو سے ہی عمر بھر کا قرار پاتے بہار پاتے محبتوں میں سرور دل کا سراغ پاتے وہ حرف آخر کہاں گیا ہے وہ حرف جو اک شجر کی صورت ہمارے گلشن نما مکاں میں بہت اذیت بھری فضا میں خزاں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 593 سے 5858