یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے
یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے میں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہے میں اب کے سال پرندوں کا دن مناؤں گا مری قریب کے جنگل سے بات ہو گئی ہے بچھڑ کے تجھ سے نہ خوش رہ سکوں گا سوچا تھا تری جدائی ہی وجہ نشاط ہو گئی ہے بدن میں ایک طرف دن طلوع میں نے کیا بدن کے دوسرے حصے میں رات ہو ...