شاعری

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے کہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہے کسی درخت کی حدت میں دن گزارنا ہے کسی چراغ کی چھاؤں میں رات کرنی ہے وہ پھول اور کسی شاخ پر نہیں کھلنا وہ زلف صرف مرے ہاتھ سے سنورنی ہے تمام ناخدا ساحل سے دور ہو جائیں سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ...

مزید پڑھیے

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں میں جو بھی دیکھتا ہوں بھولتا نہیں کسی منڈیر پر کوئی دیا جلا پھر اس کے بعد کیا ہوا پتا نہیں ابھی سے ہاتھ کانپنے لگے مرے ابھی تو میں نے وہ بدن چھوا نہیں میں آ رہا تھا راستے میں پھول تھے میں جا رہا ہوں کوئی روکتا نہیں تری طرف چلے تو عمر کٹ گئی یہ اور ...

مزید پڑھیے

ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہے

ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہے تم کہتے ہو تو پھر اچھا دیکھا ہے میں اس کو اپنی وحشت تحفے میں دوں ہاتھ اٹھائے جس نے صحرا دیکھا ہے بن دیکھے اس کی تصویر بنا لوں گا آج تو میں نے اس کو اتنا دیکھا ہے ایک نظر میں منظر کب کھلتے ہیں دوست تو نے دیکھا بھی ہے تو کیا دیکھا ہے عشق میں بندہ ...

مزید پڑھیے

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے تیرے جانے کا غم کیا گیا ہے تا قیامت ہرے بھرے رہیں گے ان درختوں پہ دم کیا گیا ہے اس لیے روشنی میں ٹھنڈک ہے کچھ چراغوں کو نم کیا گیا ہے کیا یہ کم ہے کہ آخری بوسہ اس جبیں پر رقم کیا گیا ہے پانیوں کو بھی خواب آنے لگے اشک دریا میں ضم کیا گیا ہے ان کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

بچھڑ کر اس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گا

بچھڑ کر اس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گا وو تھک جائے گا اور میرے گلے سے آ لگے گا میں مشکل میں تمہارے کام آؤں یا نہ آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا میں جس کوشش سے اس کو بھول جانے میں لگا ہوں زیادہ بھی اگر لگ جائے تو ہفتہ لگے گا مرے ہاتھوں سے لگ کر پھول مٹی ہو رہے ہیں مری ...

مزید پڑھیے

تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلے

تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلے یہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلے اس کی زباں میں اتنا اثر ہے کہ نصف شب وہ روشنی کی بات کرے اور دیا جلے تم چاہتے ہو تم سے بچھڑ کے بھی خوش رہوں یعنی ہوا بھی چلتی رہے اور دیا جلے کیا مجھ سے بھی عزیز ہے تم کو دیے کی لو پھر تو میرا مزار بنے اور دیا جلے سورج ...

مزید پڑھیے

جانے والے سے رابطہ رہ جائے

جانے والے سے رابطہ رہ جائے گھر کی دیوار پر دیا رہ جائے اک نظر جو بھی دیکھ لے تجھ کو وہ ترے خواب دیکھتا رہ جائے اتنی گرہیں لگی ہیں اس دل پر کوئی کھولے تو کھولتا رہ جائے کوئی کمرے میں آگ تاپتا ہو کوئی بارش میں بھیگتا رہ جائے نیند ایسی کہ رات کم پڑ جائے خواب ایسا کہ منہ کھلا رہ ...

مزید پڑھیے

پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا

پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا میں بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گا اگر خدا نے بنانے کا اختیار دیا علم بناؤں گا برچھی نہیں بناؤں گا فریب دے کے ترا جسم جیت لوں لیکن میں پیڑ کاٹ کے کشتی نہیں بناؤں گا گلی سے کوئی بھی گزرے تو چونک اٹھتا ہوں نئے مکان میں کھڑکی نہیں بناؤں گا میں ...

مزید پڑھیے

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے ورنہ ہر چیز عارضی ہے مجھے ایک سایہ مرے تعاقب میں ایک آواز ڈھونڈتی ہے مجھے میری آنکھوں پہ دو مقدس ہاتھ یہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے میں سخن میں ہوں اس جگہ کہ جہاں سانس لینا بھی شاعری ہے مجھے ان پرندوں سے بولنا سیکھا پیڑ سے خامشی ملی ہے مجھے میں اسے کب ...

مزید پڑھیے

صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے

صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے ہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں میں ریت ہے اے قیس تیرے دشت کو اتنی دعائیں دیں کچھ بھی نہیں ہے میری دعاؤں میں ریت ہے صحرا سے ہو کے باغ میں آیا ہوں سیر کو ہاتھوں میں پھول ہیں مرے پاؤں میں ریت ہے مدت سے میری آنکھ میں اک خواب ہے مقیم پانی میں پیڑ پیڑ کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 592 سے 5858