اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں
اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں کیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیں پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں یاد کیں نشہ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کس کی غش تجھے اے دل بیمار چلے آتے ہیں راہ میں صاحب اکسیر کھڑے ہیں مشتاق خاکساران در یار چلے آتے ہیں باغ میں پھول ...