شاعری

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں کیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیں پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں یاد کیں نشہ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کس کی غش تجھے اے دل بیمار چلے آتے ہیں راہ میں صاحب اکسیر کھڑے ہیں مشتاق خاکساران در یار چلے آتے ہیں باغ میں پھول ...

مزید پڑھیے

انفلوینزا سے کرونا تک

کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے ناخداؤں میں اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق میں کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر میں گزاریں مگر آج پھر اس جگہ ہیں جہاں سے ہمیں اپنی ماؤں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے ...

مزید پڑھیے

تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں

تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں کوئی اتنا تو آ کر بتا دے مجھے جب تری یاد آئے تو میں کیا کروں میں نے خاک نشیمن کو بوسے دیے اور یہ کہہ کے بھی دل کو سمجھا لیا آشیانہ بنانا مرا کام تھا کوئی بجلی گرائے تو میں کیا کروں میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا ...

مزید پڑھیے

دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد

دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد تم ہمیشہ رہو اے حسرت و ارماں آباد تجھ سے اے درد ہے قصر دل ویراں آباد کیا سرافراز کیا خانہ ویراں آباد جس جگہ بیٹھ کے روئے وہ مکاں ڈوب گئے شہر ہونے نہیں دیتے ترے گریاں آباد قیس و فرہاد کے دم سے بھی عجب رونق تھی کچھ دنوں خوب رہے کوہ و بیاباں ...

مزید پڑھیے

منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے

منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے کچھ کلیجہ میں درد رہتا ہے تھی کبھی رشک مہر کے عاشق دھوپ کا رنگ زرد رہتا ہے کس کے سنتے ہو رات کو نالے کہتے ہو سر میں درد رہتا ہے کبھی پوچھا نہ میرے کوچہ میں کون صحرا نورد رہتا ہے شور ہے زرد آئی ہے آندھی کیا مرا رنگ زرد رہتا ہے یاد آتی ہیں گرمیاں ...

مزید پڑھیے

باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی

باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی کس قدر ممنون ہے باد بہاری آپ کی بے وفائی آپ کی غفلت شعاری آپ کی میرے دل نے عادتیں سیکھی ہیں ساری آپ کی ہے یقیں باہم گلے ملنے کو اٹھیں دست شوق ہو اگر تصویر بھی یکجا ہماری آپ کی میکدے میں ٹوٹے جاتے ہیں بہم لڑ لڑ کے جام مفسدہ پرداز ہے چشم ...

مزید پڑھیے

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں میں بٹ رہی ہے میں اس کو ہر روز بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے تمہاری ...

مزید پڑھیے

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں جو دیکھتا ہوں میں وہ بھولتا نہیں کسی منڈیر پر کوئی دیا جلا پھر اس کے بعد کیا ہوا پتا نہیں میں آ رہا تھا راستے میں پھول تھے میں جا رہا ہوں کوئی روکتا نہیں تری طرف چلے تو عمر کٹ گئی یہ اور بات راستہ کٹا نہیں اس اژدھے کی آنکھ پوچھتی رہی کسی کو خوف آ ...

مزید پڑھیے

تو نے کیا قندیل جلا دی شہزادی

تو نے کیا قندیل جلا دی شہزادی سرخ ہوئی جاتی ہے وادی شہزادی شیش محل کو صاف کیا ترے کہنے پر آئنوں سے گرد ہٹا دی شہزادی اب تو خواب کدے سے باہر پاؤں رکھ لوٹ گئے ہیں سب فریادی شہزادی تیرے ہی کہنے پر ایک سپاہی نے اپنے گھر کو آگ لگا دی شہزادی میں تیرے دشمن لشکر کا شہزادہ کیسے ممکن ہے ...

مزید پڑھیے

سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گے

سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گے ہم ترے خواب دیکھتے رہیں گے تو کہیں اور ڈھونڈھتا رہے گا ہم کہیں اور ہی کھلے رہیں گے راہگیروں نے رہ بدلنی ہے پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہے ہیں برف پگھلے گی اور پہاڑوں میں سالہا سال راستے رہیں گے سبھی موسم ہیں دسترس میں تری تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے لوٹنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 591 سے 5858