شاعری

شدت غم سے آہ کر بیٹھے

شدت غم سے آہ کر بیٹھے عظمت غم تباہ کر بیٹھے چار ان سے نگاہ کر بیٹھے کتنا رنگیں گناہ کر بیٹھے ان کی جانب نگاہ کر بیٹھے ساری محفل گواہ کر بیٹھے ان کی دل جوئی ہر طرح سے کی غیر سے رسم و راہ کر بیٹھے درد دل تحفۂ محبت تھا درد دل سے نباہ کر بیٹھے گل سے عارض پہ شبنمی قطرے کیوں انہیں ...

مزید پڑھیے

یہ خیال شوق پرور دل کے بہلانے کو ہے

یہ خیال شوق پرور دل کے بہلانے کو ہے کوئی بے رخ بے رخی سے باز آ جانے کو ہے یہ معمہ میکدے میں کون سلجھانے کو ہے بے خودی ہشیار کو اور ہوش دیوانے کو ہے راز در پردہ کا پردہ خود بخود اٹھ جائے گا بس فقط ان سے نظر دو چار ہو جانے کو ہے میکدے میں شیخ کا آنا شگن اچھا نہیں ہوش کی لے ساقیا ...

مزید پڑھیے

کیوں حسن تبسم کی تکمیل نہیں ہوتی

کیوں حسن تبسم کی تکمیل نہیں ہوتی ہر صورت گل ان کی تمثیل نہیں ہوتی کرنے کو اجالا تو کر دیتی ہے گر پڑ کر ہر برق سر منزل قندیل نہیں ہوتی گل بنتے ہوئے شاید دیکھا نہیں کلیوں کو کیا چیز جوانی میں تبدیل نہیں ہوتی ہوتا نہ اگر دامن یہ چاک جنوں میں بھی رسوائی نہیں ہوتی تذلیل نہیں ...

مزید پڑھیے

بجائے شبنم تازہ گلوں پہ خاک نہ ہو

بجائے شبنم تازہ گلوں پہ خاک نہ ہو بہار آئے مگر کوئی سینہ چاک نہ ہو ہزار غم سے گزرنے کے بعد بھی اے دل فسانہ اپنی محبت کا دردناک نہ ہو بھرم کھلے نہ محبت کا اے دل وحشی جنوں ہو جوش میں لیکن گریباں چاک نہ ہو فضول ہے یہ تسلی تماشا ہمدردی مدد کا جذبہ اگر وجہ اشتراک نہ ہو ہماری راہ میں ...

مزید پڑھیے

رہ گیا کیا سماج مٹھی بھر

رہ گیا کیا سماج مٹھی بھر لوگ کرتے ہیں راج مٹھی بھر لوٹ لے کوئی عزت و عصمت اور دے دے اناج مٹھی بھر سلطنت چار سمت پھیلی ہے اور سر پہ ہے تاج مٹھی بھر پھر پلٹ کے وہ دور آئے گا لوگ لیں گے خراج مٹھی بھر کل زمانہ ملائے گا آواز لوگ آئے ہیں آج مٹھی بھر فصل آئی ہے خوب کھیتوں میں نہیں گھر ...

مزید پڑھیے

پا کے طوفاں کا اشارا دریا

پا کے طوفاں کا اشارا دریا توڑ دیتا ہے کنارا دریا کیسے ڈوبے گی بھنور میں کشتی کیسے دے گا نہ سہارا دریا سیل ہمت ہیں ہمارے بازو ڈوب جائے گا تمہارا دریا بند افکار نے باندھے لیکن چڑھ کے اترا نہ ہمارا دریا اہل ہمت نے ڈبویا سب کو ناخداؤں سے نہ ہارا دریا اے اسیر غم ساحل ادھر آ بیچ ...

مزید پڑھیے

اے وطن اے وطن

اے وطن اے وطن اے ہمارے وطن پھول ہم ہیں ترے تو ہمارا چمن تیری عظمت پہ ہیں جان و دل سے خدا آسماں جھک کے پرچم ترا چومتا اے وطن اپنی جنت ہے کوچہ ترا خوشبو ہم اور تو نرگس و نسترن اے وطن اے وطن اے ہمارے وطن پھول ہم ہیں ترے تو ہمارا چمن ہم ہیں فصل بہار اور تو گلستاں تو اگر آسماں ہے تو ہم ...

مزید پڑھیے

اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات

اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات شاہ معشوقاں کے آگے کیا ہے یہ ایتی بساط کیوں نہ دوڑے تب دوانا ہو کے مجنوں دشت کوں جب لکھی ہو عاشقاں کی شاخ آہو پہ برات جھلجھلاتی ہے مہیں جامے سیں تیرے تن کی جوت ماہ کا خرمن ہے اے خورشید رو تیرا یوگات سو گرہ تھی دل میں میرے خوشۂ انگور ...

مزید پڑھیے

عشق ہے عشق پاک بازی کا

عشق ہے عشق پاک بازی کا گو کہ ہو عالم مجازی کا عشق کا طفل گر زمیں اوپر کھیل سیکھا ہے خاک بازی کا دل کو مژگاں نیں لے کے پنجے میں کام کیتا ہے شاہبازی کا کیمیا سیم تن سیں ملتا ہے یہی ہے فن سیم سازی کا فضل احمد سیں شعر یکروؔ کا راہ ہے پردۂ حجازی کا

مزید پڑھیے

جب کریں مجھ ترے کا خیال انکھیاں

جب کریں مجھ ترے کا خیال انکھیاں اشک سیں تر کریں رومال انکھیاں چھوڑ خوباں کا دیکھنا اے دل لاگ جاویں گی آج کال انکھیاں آج تجھ پر نثار کرنے کوں اشک موتی ہوئے ہیں تھال انکھیاں دل پھڑکتا ہے بیجلی کی جوں ہوئی ہیں آج برشکال انکھیاں جب چلاوے صنم نگہ کی تیغ یکروؔ تب توں کر اپنی ڈھال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5760 سے 5858