شاعری

اگر نہیں قصد اے ظالم مرے دل کے ستانے کا

اگر نہیں قصد اے ظالم مرے دل کے ستانے کا سبب کیا ہے تجھے مجھ سے نمانے سے بہانے کا ہوئی مدت نہیں طاقت مرے دل کوں جدائی کی کرم کر آ سجن یا فکر کر میرے بلانے کا شہ خوباں مرے گھر رات کو آیا ہے اے مطرب مرا دل شاد ہے گا راگ اے مطرب شہانے کا نہ ہووے کیوں کے گردوں پے صدا دل کی بلند ...

مزید پڑھیے

گل کو شرمندہ کر اے شوخ گلستان میں آ

گل کو شرمندہ کر اے شوخ گلستان میں آ لب سیں غنچے کا جگر خوں کرو مسکیان میں آ وہی اک جلوہ نما جگ میں ہے دوجا کوئی نہیں دیکھ واجب کوں سدا مجمع امکان میں آ زندگی مجھ دل مردہ کی توہیں ہے مت جا دل سے گر خوش نہیں اے شوخ مری جان میں آ گل دل غنچہ نمن تنگ ہو رنگ و بو سیں جب کرے یاد ترے لب کے ...

مزید پڑھیے

سنایا یار نیں آ کر دو تارہ (ردیف .. ا)

سنایا یار نیں آ کر دو تارہ بلندی پے چڑھا میرا ستارہ مزیداری ہے ساری ہند کے بیچ نہ کر عزم سمرقند و بخارا رہا ہے عشق بازی بیچ وہ چست بتاں کن نقد دل کوں جن نیں ہارا رہے گا جان جیتا کیوں کے یکروؔ نگہ کا تیر تجھ انکھیاں نیں مارا

مزید پڑھیے

تجھ قد کی ادا سرو گلستاں سیں کہوں گا

تجھ قد کی ادا سرو گلستاں سیں کہوں گا جادوئے نین نرگس بستاں سیں کہوں گا دیکھا ہوں ترے لب پہ میں مسی کی دھڑی کوں ظلمات پے جا چشمۂ حیواں سیں کہوں گا مجھ دل کی لگن تجھ سیں ہے اے خوبیٔ محفل پروانہ نمن شمع شبستاں سیں کہوں گا پیدا کیا تجھ شوق میں دل وسعت مشرب یوں حالت دل کوہ و بیاباں ...

مزید پڑھیے

کب کرے قصد یار آون کا

کب کرے قصد یار آون کا دل ویران کے بساون کا رام معشوق اگر ہووے عاشق توڑ دے سر رقیب راون کا جھاڑ مت جاں تجھے خدا کی سوں دل مرا ہے غبار دامن کا جب پھڑکتا ہے بیجلی جیوں دل جھڑ لگاتی ہے نین ساون کا بید مجنوں کہو گے یکروؔ کوں خوب لیلیٰ ستی ہے بامن کا

مزید پڑھیے

مجھ سیں اور دل ربا سیں ہے ان بن

مجھ سیں اور دل ربا سیں ہے ان بن کیا کروں فن کچھ آوتی نہیں بن کچھ نہیں آتی سرو قد سیں بن پھرتا ہوں گرد باد جیوں بن بن زلف تیری سیاہ ناگن ہے چھین لیتی ہے ہر کسی کا من درس سیں علم کے ہے دل بیزار خوب رویاں کا خوب ہے درشن مجھ کوں واعظ نکو نصیحت کر یار جس سیں ملے بتاؤ فن یک سو یکروؔ کا ...

مزید پڑھیے

تیاگ

چپ چپ اپنے چپ بیگانے نرسنگھے خاموش اپنی ریکھا لیکھ کی ہانی یا کرموں کا دوش آشاؤں کی پھلواری میں پھوٹی کڑوی بیل پالے پوسے بن لہرائی الھڑ اور انیل پریم لتا کی سندرتا میں جاگ اٹھے ارمان اپنے پرائے ساجن بن کر آئے نظر انسان کڑوی بیل میں بیٹھے پھل آنے کی جب رت آئی باجے گاجے گونج اٹھے ...

مزید پڑھیے

بے بسی

میں نے چاہا تھا کہ تاروں کی بجھا دوں شمعیں نکہت و نور کے سانچے میں جو دیکھا تھا اسے کون کر سکتا ہے انکار وجود میں نے دیکھی ہیں لچکتی ہوئی بانہیں اس کی مرمریں شانوں پہ بکھری ہوئی مشکیں زلفیں رس بھرے ہونٹ رسیلی آنکھیں تاب نظارہ نہ موسیٰ کو ہوئی کیوں ہوتی اس کی آنکھوں میں تھے سہمے ...

مزید پڑھیے

آج اور کل

بھوکی آنکھیں کل کو دیکھیں جھوٹی آس لگائے آنے والی کل کب آ کر آج کی بھوک مٹائے آنے والی کل پہ بھروسہ کب آئے کیا لائے بیتی کل بیتی کل کے دیپ کی لو کب آج کی جوت جگائے مایا چھل کے چھایا ڈھل کے لوٹ کے پھر نہیں آئے آج کی بھوک ہے آج کا رونا آج کا راگ سہاگ جھوٹ کپٹ سے لاگ لپٹ سے آج کے دیپ ...

مزید پڑھیے

تفسیر حیات

دور سے بھاگتے اور بڑھتے چلے آتے ہیں جذبۂ شوق میں ڈوبے ہوئے سرسبز درخت راحت روح کا سامان لیے نغمۂ ساز نظر بکھراتے میری مشتاق نگاہوں سے ملاتے ہوئے نظریں اپنی مجھ سے مل مل کے بچھڑ جاتے ہیں اور پھر دور بہت دور پہنچ کر ایسے دیکھتے جاتے ہیں مڑ مڑ کے مجھے جیسے اک تشنگی محسوس کئے جاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5761 سے 5858