شاعری

بت یہاں ملتے نہیں ہیں یا خدا ملتا نہیں

بت یہاں ملتے نہیں ہیں یا خدا ملتا نہیں عزم مستحکم تو ہو دنیا میں کیا ملتا نہیں ہم سفیران جنوں یوں ہم سے آگے بڑھ گئے قافلہ کیا ہے غبار قافلہ ملتا نہیں اپنی صورت دیکھنا ہو اپنے دل میں دیکھیے دل سا دنیا میں کوئی بھی آئنہ ملتا نہیں دے دیا ہے آپ کو دل اب حفاظت کیجیے ہر خزانے میں یہ ...

مزید پڑھیے

کعبہ ہے کبھی تو کبھی بت خانہ بنا ہے

کعبہ ہے کبھی تو کبھی بت خانہ بنا ہے یہ دل بھی عجب چیز ہے کیا کیا نہ بنا ہے جس روز سے دل آپ کا دیوانہ بنا ہے ایک لفظ بھی نکلا ہے تو افسانہ بنا ہے یہ آج کا دن حشر کا دن تو نہیں یا رب اپنا تھا جو کل تک وہی بیگانہ بنا ہے تنکوں کا تو بس نام ہے سچائی یہی ہے اک جہد مسلسل ہے جو کاشانہ بنا ...

مزید پڑھیے

اپنے وہم و گمان سے نکلا

اپنے وہم و گمان سے نکلا میں اندھیرے مکان سے نکلا بے رخی دیکھ اب زمانے کی مدعا کیوں زبان سے نکلا سمت کا غم نہ تھا سفینے کو یہ الم بادبان سے نکلا دھوپ برسا رہی تھیں تلواریں پھر بھی میں سائبان سے نکلا وقت مہلت نہ دے گا پھر تم کو تیر جس دم کمان سے نکلا آ گیا لیجئے ساحل ہستی میں ...

مزید پڑھیے

دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے

دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے اہل وطن کو فتنۂ دوراں کی فکر ہے گلشن کی فکر ہے نہ بیاباں کی فکر ہے اہل جنوں کو فصل بہاراں کی فکر ہے لوگوں کو اپنی فکر ہے لیکن مجھے ندیم بزم حیات و نظم گلستاں کی فکر ہے ہم مقتل حیات میں ہیں سر بکف مگر اہل ہوس کو اپنے دل و جاں کی فکر ہے ساحل سے دور ...

مزید پڑھیے

غم حیات غم دل نشاط جاں گزرا

غم حیات غم دل نشاط جاں گزرا تمہارے ساتھ ہر اک لمحہ شادماں گزرا تڑپ کے درد سے فریاد کو جو لب کھولے ستم شعار زمانے پہ یہ گراں گزرا بدل دے رخ جو مری زندگی کے دھاروں کا وہ حادثہ مرے دل پر ابھی کہاں گزرا جواب طور‌ و تجلی کہیں گے اہل نظر جو دل کی راہ سے وہ حسن مہرباں گزرا بسا کے دل ...

مزید پڑھیے

انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے

انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے عافیت سے کون اپنے گھر میں ہے زندگی پر سب حقیقت کھل چکی تو ابھی تک خواب کے پیکر میں ہے مطمئن انساں کہیں پر بھی نہیں ایک سی حالت زمانے بھر میں ہے رات کی چٹان سے صبحیں تراش خواب کی تعبیر اسی پتھر میں ہے جھوٹ کی بن آئی ہے چاروں طرف سچ اگر ہے بھی تو پس ...

مزید پڑھیے

میں شب ہجر کیا کروں تنہا

میں شب ہجر کیا کروں تنہا یاد میں تیری گم رہوں تنہا ہیں ادھر گردشیں زمانے کی ہے مقابل ادھر جنوں تنہا کتنے بے نور ہیں یہ ہنگامے میں بھرے شہر میں بھی ہوں تنہا آدمی گھر گیا مسائل میں رہ گئی زیست بے سکوں تنہا وہ تو اس دور کے نہیں انساں مل گیا ہے جنہیں سکوں تنہا ہم سفر جب نیازؔ ...

مزید پڑھیے

کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم

کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم قرض وفا میں کرتے ہیں سر کا شمار ہم افسوس اسی چمن میں ہوئے بے وقار ہم جس کو کہ چاہتے رہے دیوانہ وار ہم الفاظ مدح خواں تھے قلم تھے بکے ہوئے کیسے تراش لیتے کوئی شاہ کار ہم ملنا ہمارا خاک میں ضائع نہ جائے گا دے جائیں گے چمن کو شعور بہار ہم کوئی ...

مزید پڑھیے

ہم نفس خواب جنوں کی کوئی تعبیر نہ دیکھ

ہم نفس خواب جنوں کی کوئی تعبیر نہ دیکھ رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ تو کسی حسن جہاں سوز کی تصویر نہ دیکھ اپنے گزرے ہوئے حالات کی تفسیر نہ دیکھ حسن تدبیر سے تقدیر بدل دے اپنی جو ہے حالات سے منسوب وہ تقدیر نہ دیکھ تو پرستار عمل ہے تو عمل کی خاطر خواب رنگیں کی قسم خواب ...

مزید پڑھیے

ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو

ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو آپ تجدید ملاقات کی باتیں نہ کرو دل نے ہر دور میں دنیا سے بغاوت کی ہے دل سے تم رسم و روایات کی باتیں نہ کرو ہمتیں قافلے والوں کی نہ ہوں پست کہیں رہرو گردش حالات کی باتیں نہ کرو چاہئے جوش طلب میرے شکستہ دل کو ایسے حالات میں صدمات کی باتیں نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5755 سے 5858