شاعری

مہک رہا ہے تصور میں خواب کی صورت

مہک رہا ہے تصور میں خواب کی صورت کھلا کھلا سا وہ چہرہ گلاب کی صورت سوال اس سے عجب میری خامشی نے کیا ہنسی لبوں پہ تھی اس کے جواب کی صورت کتاب دل کا مری ایک باب ہو تم بھی تمہیں بھی پڑھتا ہوں میں اک نصاب کی صورت پکارا جب بھی مجھے تم نے دشت امکاں سے کوئی امید سی ابھری سراب کی ...

مزید پڑھیے

مجھے احساس یہ پل پل رہا ہے

مجھے احساس یہ پل پل رہا ہے کہ میرے سر سے سورج ڈھل رہا ہے خوشا ساتھی وہ پچھلے موسموں کے یہ تنہائی کا عالم کھل رہا ہے برائے شب جلاؤ مشعل جاں تھکا ماندہ یہ سورج ڈھل رہا ہے سفر میں یہ گماں ہے ہر قدم پر کہ میرے ساتھ کوئی چل رہا ہے رقم تھے جس پہ لمحے بیش قیمت وہ کاغذ آنسوؤں سے گل رہا ...

مزید پڑھیے

نئے اسلوب میں زندہ ہوئے ہیں

نئے اسلوب میں زندہ ہوئے ہیں تبھی تو حرف آئندہ ہوئے ہیں طلوع صبح کی امید کم تھی دعائے شب سے تابندہ ہوئے ہیں نہ کام آیا جہاں عرض ہنر بھی لب اظہار شرمندہ ہوئے ہیں بدن میں جیتے جی جو مر گئے تھے وہ اپنی روح میں زندہ ہوئے ہیں ہماری شعلگی سب سے جدا ہے بجھے ہیں ہم تو سوزندہ ہوئے ...

مزید پڑھیے

نہ دشمنوں سے وطن میں رہا کبھی محفوظ

نہ دشمنوں سے وطن میں رہا کبھی محفوظ جلا وطن ہوں تو لگتی ہے زندگی محفوظ نہ جانے کون سا غم مرتسم ہے اس دل پر کہ میرے ہونٹوں نے کر لی ہے خامشی محفوظ کمال ضبط بھی اب اس سے بڑھ کے کیا ہوگا ہمارے سینے میں رہتا ہے درد بھی محفوظ جو آئے میرے تعاقب میں ہو گئے غرقاب ہے میری ناؤ کنارے پہ آج ...

مزید پڑھیے

اے میری آنکھو یہ بے سود جستجو کیسی

اے میری آنکھو یہ بے سود جستجو کیسی جو خواب خواب رہیں ان کی آرزو کیسی رگوں میں خون ہے شاخوں کی سرخ رو غنچے خزاں میں اب کے بہاروں کی رنگ و بو کیسی تمام پتوں کو موسم نے زرد زرد کیا یہ ایک شاخ تمنا ہے سبز رو کیسی کرو تو یاد ملن کے وہ اولیں لمحے کہ چھڑ گئی تھی نگاہوں میں گفتگو ...

مزید پڑھیے

دیکھ لینا گردش ایام پھر

دیکھ لینا گردش ایام پھر میرے ہاتھوں میں نہ آئے جام پھر چڑھتے سورج کی پرستش کیا کروں ڈوب جائے گا تو ہوگی شام پھر پیاس کے ماروں کا ہنگامہ نہ پوچھ میکدہ لوٹیں نہ تشنہ کام پھر اہتمام گردش دوراں نہ پوچھ صبح ہوتی ہے تو ہوگی شام پھر ان کی زلفوں میں الجھ کر رہ گیا آ گیا ہوں کیا میں ...

مزید پڑھیے

دل دیا وحشت لیا اور خود کو رسوا کر لیا

دل دیا وحشت لیا اور خود کو رسوا کر لیا مختصر سی زندگی میں میں نے کیا کیا کر لیا دل کی خاطر کفر بھی اس نے گوارا کر لیا ایک پتھر خود تراشا خود ہی سجدہ کر لیا آپ کی چاہت کا ملنا جان لوں گا مفت ہے جان دے کر بھی اگر میں نے یہ سودا کر لیا بال و پر اپنے سلامت ڈر اندھیروں کا نہیں چار تنکے ...

مزید پڑھیے

لغزش ساقیٔ میخانہ خدا خیر کرے

لغزش ساقیٔ میخانہ خدا خیر کرے پھر نہ ٹوٹے کوئی پیمانہ خدا خیر کرے ہر گھڑی جلوۂ جانانہ خدا خیر کرے تیرا دل ہے کہ صنم خانہ خدا خیر کرے لوگ کر ڈالیں نہ خود اپنے جگر کے ٹکڑے بے نقاب ان کا چلے آنا خدا خیر کرے دل کی بات ان سے ابھی کہہ تو گئے ہو لیکن کوئی بن جائے نہ افسانہ خدا خیر ...

مزید پڑھیے

اچھا ہے کوئی تیر با نشتر بھی لے چلو

اچھا ہے کوئی تیر با نشتر بھی لے چلو کچھ یادگار شہر ستم گر بھی لے چلو سب جا رہے گلاب سے چہرے لئے ہوئے تم آئنوں کے شہر میں پتھر بھی لے چلو یوں کم نہیں ہے شیریں بیانی ہی آپ کی چاہو تو آستین میں خنجر بھی لے چلو مجھ کو کسی یزید کی بیعت نہیں قبول نیزے یہ رکھو آؤ مرا سر بھی لے چلو کیا ...

مزید پڑھیے

روٹھے ہیں ہم سے دوست ہمارے کہاں کہاں

روٹھے ہیں ہم سے دوست ہمارے کہاں کہاں ٹوٹے ہیں زندگی کے سہارے کہاں کہاں دنیا کی بازگشت میں اپنی ہی ہے صدا ایسے میں کوئی تجھ کو پکارے کہاں کہاں کعبے میں تھا سکوں نہ کلیسا میں چین تھا تجھ سے بچھڑ کے دن یہ گزارے کہاں کہاں تو تھا رگ گلو سے زیادہ قریب تر ڈھونڈھ آئے تجھ کو دید کے مارے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5754 سے 5858