شاعری

مرہم زخم جگر ہو جائے

مرہم زخم جگر ہو جائے ایک ایسی بھی نظر ہو جائے اک اشارہ بھی اگر ہو جائے اس شب غم کی سحر ہو جائے صبح یہ فکر کہ ہو جائے شام شام کو یہ کہ سحر ہو جائے ہو نہ اتنا بھی پریشاں کوئی کہ زمانے کو خبر ہو جائے یوں تو جو کچھ بھی کسی پر گزرے دل نہ افسردہ مگر ہو جائے فکر فردا بھی کریں گے ...

مزید پڑھیے

کس نے ان کا شباب دیکھا ہے

کس نے ان کا شباب دیکھا ہے جس نے دیکھا ہے خواب دیکھا ہے آسماں پر ابھی تو دنیا نے ایک ہی آفتاب دیکھا ہے دیکھنے کو تو حسن ہم نے بھی اک سے اک انتخاب دیکھا ہے چند ذی قلب تھے جنہیں ہم نے صرف صد اضطراب دیکھا ہے سننے والے بھی جس کو سن نہ سکیں ہم نے وہ انقلاب دیکھا ہے جب سے بدلی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں

وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں ہم اسے بے بصری کہتے ہیں نام اس کا ہے اگر با خبری پھر کسے بے خبری کہتے ہیں یہ اگر لطف و کرم ہے تو کسے جور و بے دادگری کہتے ہیں کیا اسی کار‌ نظر بندی کو حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں گل کے اوراق پہ کانٹوں کا گماں کیا اسے خوش نظری کہتے ہیں بہر بیمار دوا ہے نہ ...

مزید پڑھیے

مدتوں دیکھ لیا چپ رہ کے

مدتوں دیکھ لیا چپ رہ کے آؤ کچھ ان سے بھی دیکھیں کہہ کے اس تغافل پہ بھی اللہ اللہ یاد آتا ہے کوئی رہ رہ کے ہے روانی کی بھی حد اک آخر موج جائے گی کہاں تک بہہ کے سچ تو یہ ہے کہ ندامت ہی ہوئی راز کی بات کسی سے کہہ کے

مزید پڑھیے

جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کی

جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کی اور جان میں جان آئے ہے آئے سے کسو کی وہ آگ لگی پان چبائے سے کسو کی اب تک نہیں بجھتی ہے بجھائے سے کسو کی بجھنے دے ذرا آتش دل اور نہ بھڑکا مہندی نہ لگا یار لگائے سے کسو کی کیا سوئیے پھر غل ہے در یار پہ شاید چونکا ہے وہ زنجیر ہلائے سے کسو کی کہہ دو ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں مروت تری اے یار کہاں ہے

آنکھوں میں مروت تری اے یار کہاں ہے پوچھا نہ کبھو مجھ کو وہ بیمار کہاں ہے نو خط تو ہزاروں ہیں گلستان جہاں میں ہے صاف تو یوں تجھ سا نمودار کہاں ہے آرام مجھے سایۂ طوبیٰ میں نہیں ہے بتلاؤ کہ وہ سایۂ دیوار کہاں ہے لاؤ تو لہو آج پیوں دختر رز کا اے محتسبو دیکھو وہ مردار کہاں ہے فرقت ...

مزید پڑھیے

خفا مت ہو مجھ کو ٹھکانے بہت ہیں

خفا مت ہو مجھ کو ٹھکانے بہت ہیں مرا سر رہے آستانہ بہت ہیں بہت دور ہے اپنے نزدیک تو بھی تجھے یاد کافر بہانے بہت ہیں بہانے نہ کر مجھ سے اے چشم گریاں ابھی اشک مجھ کو بہانے بہت ہیں مرے چشم و دل اور جگر سب ہیں حاضر تو خاطر نشاں رکھ نشانے بہت ہیں کشش دل کی ہی کام کرتی ہے ورنہ فسوں ...

مزید پڑھیے

پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظ

پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظ شکست توبہ کی پھر ہے بہار اے واعظ نہ جان مجھ کو تو مختار سخت ہوں مجبور نہیں ہے دل پہ مرا اختیار اے واعظ انار خلد کو تو رکھ کے ہیں پسند ہمیں کچیں وہ یار کی رشک انار اے واعظ اسی کی کاکل پر پیچ کی قسم ہے مجھے کہ تیرے وعظ ہیں سب پیچ دار اے واعظ ہمارے درد ...

مزید پڑھیے

دل تو حاضر ہے اگر کیجئے پھر ناز سے رمز

دل تو حاضر ہے اگر کیجئے پھر ناز سے رمز ہیں ترے ناز کے صدقے اسی انداز سے رمز رمز و ایما و کنائے تجھے سب یاد ہیں یار ہم تو بھولے ہیں غم غمزۂ غماز سے رمز اپنی نافہمی سے میں اور نہ کچھ کر بیٹھوں اس طرح سے تمہیں جائز نہیں اعجاز سے رمز دل کو تو سہج میں لیوے گا یہ میں جان چکا یہی نکلی ...

مزید پڑھیے

درد دل میں ہوں سن اے یار ستم گار کہ تو

درد دل میں ہوں سن اے یار ستم گار کہ تو تو ہوا چور تو پھر میں ہوں گنہ گار کہ تو تو وفادار ہے اے یار جنا کار کہ تو میں وفادار ہوں اے یار ہبہ کار کہ تو جام مے کس کے یہاں ہاتھ میں رہتا ہے مدام میں بھلا دختر رز سے ہوں گرفتار کہ تو تم ہو بد عہد نہ میں میں ہوں وفادار کہ تم میں یہ کہتا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5750 سے 5858