شاعری

دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہا

دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہا آپ فرماتے ہیں یوں اس کی بلا نے چاہا تا دم مرگ نہ ہوں تجھ سے مری جان جدا میں نے چاہا تھا ولیکن نہ خدا نے چاہا چل بسے دیکھتے ہی چال ادا کی ہم تو ہو وے قصہ ہی ادا تیری ادا نے چاہا گھر سے کس طرح سے یوں حضرت منعم نکلیں دی نہ بوبو نے اجازت نہ دوانے ...

مزید پڑھیے

بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کی

بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کی مٹی مری اس خاک نے ہی خوار بہت کی چڑ مجھ کو تجھے ریجھ کے تکرار بہت کی خوش رہ کہ خوشامد تری اے یار بہت کی ہرگز نہ گئی پیش نہ آیا مہ بے مہر ہر چند کہ زاری پس دیوار بہت کی لائی کشش دل ہی تمہیں تم نے تو ورنہ یہاں آنے میں اک عمر تلک عار بہت کی اس چشم نے ...

مزید پڑھیے

کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا

کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا جی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہمارا کوچہ سے ترے کوچ ہے اے یار ہمارا جی لے ہی چلی حسرت دیدار ہمارا تو ہم کو اٹھا لیجیو اس وقت الٰہی جس وقت اٹھے پہلو سے دل دار ہمارا یارا ہے کہاں اتنا کہ اس یار کو یارو میں یہ کہوں اے یار ہے تو یار ہمارا ہم پادشہ ...

مزید پڑھیے

کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نے

کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نے مر کہا تو نے مرحبا میں نے کیوں صراحی مے کو دے پٹکا تو نے توڑا یا بے وفا میں نے ناتوانی میں یہ توانائی دل کو تجھ سے اٹھا دیا میں نے دے کے یہ تجھ کو یہ لیا کہ دیا گوہر بے بہا لیا میں نے کیوں خم مے کو محتسب توڑا کیا کیا میں نے کیا کیا میں نے کیوں نہ رک ...

مزید پڑھیے

چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئی

چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئی اے ستم گر ترے ہاتھوں سے کدھر جائے کوئی کیوں کی گزرے گی نہ گزرو گے جو تم یار ادھر پس یہ مرضی ہے کہ بس جیسے گزر جائے کوئی مرے مرنے سے ترا شہرہ ہوا یا قسمت کہ بگڑ جائے کوئی اور سنور جائے کوئی ایک دم کا بھی بھروسا نہیں مانند حیات بحر ہستی میں ...

مزید پڑھیے

دو بھی بوسے مجھے اک ماہ میں اے ماہ نہ دو

دو بھی بوسے مجھے اک ماہ میں اے ماہ نہ دو وضع یہ کیا ہے کہ نوکر رکھو تنخواہ نہ دو خوش ادا اور تو کیا تم سے توقع افسوس ایک گالی بھی مجھے آن کے تم آہ نہ دو بے مزہ ہو کے جو بوسے بھی دئے کیا ہے مزا وہ تو اک راہ محبت سے بہ اکراہ نہ دو یاد چشم بت مغرور دلائے ہے مجھے دوستو تم گل نرگس مجھے ...

مزید پڑھیے

تمہارے قد سے ہیں قائم قیامتیں کیا کیا

تمہارے قد سے ہیں قائم قیامتیں کیا کیا اٹھی ہیں بیٹھے بٹھائے یہ آفتیں کیا کیا لبوں پہ جان کا آنا یہ خواب کا جانا خیال لب میں ہیں تیری حلاوتیں کیا کیا دل اپنا تم کو دیا پھر رکھے وفا کی امید بیاں اپنی کروں میں حماقتیں کیا کیا زمیں میں شرم سے اس قد کی گڑ گیا ہے سرو ہوئی ہیں اس کو نہ ...

مزید پڑھیے

دوش بدوش دوش تھا مجھ سے بت کرشمہ کوش

دوش بدوش دوش تھا مجھ سے بت کرشمہ کوش پردہ در خیام عقل رخنہ گر حریم ہوش غازہ بہ رو مسی بہ لب پان بہ دہن حنا بکف سلک در عدن بسر طرہ عنبریں بہ دوش پل میں مریض وہ کرے دم میں شفا یہ دے مجھے آہ وہ چشم مے پرست واہ وہ لعل بادہ نوش مائل عیش جان کر جاہل بے وفا کہے سائل بوسہ جبکہ ہوں چپکے کہے ...

مزید پڑھیے

ستم سا کوئی ستم ہے ترا پناہ تری

ستم سا کوئی ستم ہے ترا پناہ تری پڑی ہے چار طرف اک تراہ تراہ تری طریق پر جو نہیں تو ہے رہ نہ میرے ساتھ وہ راہ میری ہے اے جان سن یہ راہ تری دلا تو عشق میں ہر لحظہ اشک خونیں رو کہ سرخ روئی اسی سے ہے رو سیاہ تری میں اتنا بازیٔ الفت میں کیوں نہ ہوں ششدر جو مانگو پانچ دو پڑتے ہیں خواہ ...

مزید پڑھیے

تمہاری چشم نے مجھ سا نہ پایا

تمہاری چشم نے مجھ سا نہ پایا دیا سرمہ بھی اور چپکا نہ پایا خدا کو کیا کہوں پایا نہ پایا کہ وصل بے خودی اصلا نہ پایا بہت صورت کو میں ترسا نہ پایا نہ پایا وہ بہت ترسا نہ پایا سحاب تر نے بحر خشک سب نے ہمارا دیدۂ تر سا نہ پایا چلے ہم دل جلے اس بزم سے یار جلے ہاتھوں سے اک بیڑا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5746 سے 5858