دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہا
دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہا آپ فرماتے ہیں یوں اس کی بلا نے چاہا تا دم مرگ نہ ہوں تجھ سے مری جان جدا میں نے چاہا تھا ولیکن نہ خدا نے چاہا چل بسے دیکھتے ہی چال ادا کی ہم تو ہو وے قصہ ہی ادا تیری ادا نے چاہا گھر سے کس طرح سے یوں حضرت منعم نکلیں دی نہ بوبو نے اجازت نہ دوانے ...