شاعری

سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والے

سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والے عرش اعظم کے یہ نالے ہیں بلانے والے یہ صدا سنتے ہیں اس کوچہ کے جانے والے جان کر جان نہ کھو کون ہے آنے والے چین تجھ کو بھی نہ ہو مجھ کو ستانے والے تو بھی ٹھنڈا نہ رہے جی کے جلانے والے کب ہیں اس دل سے بتاں ہاتھ اٹھانے والے یہ وہ کافر ہیں کہ مسجد ...

مزید پڑھیے

باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچے

باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچے بلبلاتی ہوئی گلزار میں بلبل پہنچے صدمۂ شام اجل مجھ کو نہ بالکل پہنچے گر مری داد کو کل تک بھی وہ کاکل پہنچے دل بھی لے کر علم آہ مقابل پہنچا نیزہ بازان مژہ جب بہ تغافل پہنچے مہر کوچہ ترا جھاڑے ہے بہ جاروب‌ شعاع کہ اسی طرح بہم تجھ سے توسل ...

مزید پڑھیے

گلی سے تری جو کہ اے جان نکلا

گلی سے تری جو کہ اے جان نکلا گریباں سے دست و گریبان نکلا تری آن پہ غش ہوں ہر آن ظالم تو اک آن لیکن نہ یاں آن نکلا یہی مجھ کو رہ رہ کے آتا ہے ارماں کہ تجھ سے نہ کچھ میرا ارمان نکلا مری آہ آتش فشاں دیکھتی ہے لیے گھر سے ہر آن قرآن نکلا مری جان شرط رفاقت نہیں یہ نکل جان تو بھی کہ ...

مزید پڑھیے

فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتا

فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتا چراغ عشق کا ہرگز بجھا نہیں رہتا بغل میں رشک سے دل دل ربا نہیں رہتا خفا ہے یہ کہ تو مجھ سے خفا نہیں رہتا ہمیشہ حسن سن اے بے وفا نہیں رہتا کبھی زمانہ سدا ایک سا نہیں رہتا بجھی جو شمع تو پروانوں پہ ہوا روشن کہ بعد مرگ کوئی آشنا نہیں رہتا کہاں وہ گریہ ...

مزید پڑھیے

تیر پہلو میں نہیں اے رفقائے پرواز

تیر پہلو میں نہیں اے رفقائے پرواز طائر جان کے یہ پر ہیں برائے پرواز یوں تو پر بند ہوں پر یار پروں پر میرے جو گرہ تیری ہے سو عقدہ کشائے پرواز ایک پرواز کی طاقت نہیں اس جا سے مجھے اور جو حکم ہو صیاد سوائے پرواز دیکھیو نامہ نہ لایا ہو کبوتر اس کا کچھ مرے کان میں آتی ہے صدائے ...

مزید پڑھیے

غم یاں تو بکا ہوا کھڑا ہے

غم یاں تو بکا ہوا کھڑا ہے فدوی ہے فدا ہوا کھڑا ہے ہلتا نہیں تیرے در سے یہ عشق مدت سے ملا ہوا کھڑا ہے خونیں کفن شہید الفت دولہا سا بنا ہوا کھڑا ہے ٹک گوشۂ چشم ادھر بھی کوئی کونے سے لگا ہوا کھڑا ہے دامن کا ہے گھیر گرد جاناں کیوں جی وہ گھرا ہوا کھڑا ہے یوں دل کو بغل میں میں نے ...

مزید پڑھیے

نہیں سنتا نہیں آتا نہیں بس میرا چلتا ہے

نہیں سنتا نہیں آتا نہیں بس میرا چلتا ہے نکل اے جان تو ہی وہ نہیں گھر سے نکلتا ہے جلا ہوں آتش فرقت سے میں اے شعلہ رو یاں تک چراغ خانہ مجھ کو دیکھ کر ہر شام جلتا ہے نہیں یہ اشک و لخت دل تری الفت کی دولت سے مرا یہ دیدہ ہر دم لعل اور گوہر اگلتا ہے کسی کا ساتھ سونا یاد آتا ہے تو روتا ...

مزید پڑھیے

ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کا

ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کا چلن یہ چلتے ہو عاشق کی جان جانے کا قسم قدم کی ترے جب تلک ہے دم میں دم میں پاؤں پر سے ترے سر نہیں اٹھانے کا ہماری جان پہ گرتی ہے برق غم ظالم تجھے تو سہل سا ہے شغل مسکرانے کا قسم خدا کی میں کچھ کھا کے سو رہوں گا صنم جو ساتھ اپنے نہیں مجھ کو تو سلانے ...

مزید پڑھیے

دکھلا دو نقش پائے رسول امین کو

دکھلا دو نقش پائے رسول امین کو تا مشق سجدہ ہو مرے لوح جبین کو اے آہ دل جو جاوے تو عرش برین کو کہیو سلام عیسیٰ گردوں نشین کو بل بے شرار اشک کی گرمی کہ اب تلک اک آگ لگ رہی ہے مری آستین کو تھا میں کمین بوسہ میں بولے اسی لیے اشراف منہ لگاتے نہیں ہیں کمین کو جب میں ہنسوں گا آپ سے رو ...

مزید پڑھیے

غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہے

غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہے ہے وہ اک باد فروش اور ہوا باندھے ہے بوالہوس جامۂ عریانٔی عشاق کو دیکھ تو گریبان سے کیوں اپنا گلا باندھے ہے یوں شرر چھڑتی ہیں جیسے کہ ہوائی ہے چھٹی اک سماں آہ مری تا بہ‌‌ سما باندھے ہے دل‌ سرگشتہ بھی تو ایک بلا میں ہے پھنسا کبھی کھولی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5745 سے 5858