شاعری

کہاں تھے شب ادھر دیکھو حیا کیوں ہے نگاہوں میں

کہاں تھے شب ادھر دیکھو حیا کیوں ہے نگاہوں میں اگر منظور ہے رکھ لو مجھے جھوٹے گواہوں میں موحد وہ ہوں گر میں سر وحدت کان میں کہہ دوں مؤذن بت کدہ میں ہوں برہمن خانقاہوں میں نظر مجھ سے چرا کر منہ چھپا کر کہتے جاتے ہیں کہ یہ چوری بھی لکھی جائے گی تیرے گناہوں میں سیہ کاری مری بن جائے ...

مزید پڑھیے

تری بد گمانیوں کا ہے عجیب سا تسلسل

تری بد گمانیوں کا ہے عجیب سا تسلسل تجھے اب بھی یوں لگے ہے کہ میں زار زار رویا مرے دل کی رہ گزر پہ ہیں انا کے سرخ شعلے تری ذات بھی انہی میں ہی جھلس گئی ہے گویا ہے نشان تیرا باقی نہیں روح پہ ذرا بھی ابھی جسم کا کوئی بھی نہیں داغ میں نے دھویا

مزید پڑھیے

تری ذات سے میں وفا چاہتا ہوں

تری ذات سے میں وفا چاہتا ہوں میں تیری ہمیشہ بقا چاہتا ہوں بہت تیرے ناز و ادا میں نے دیکھے نئے ناز اب دیکھنا چاہتا ہوں مرے سامنے جان جاں تم رہو بس میں اس کے سوا اور کیا چاہتا ہوں شراب محبت سے مخمور ہو کر میں دن رات تجھ سے ملا چاہتا ہوں کنارہ ہے ناپید موج جفا ہے میں موج جفا سے بچا ...

مزید پڑھیے

گرویدہ جس کے حسن کا سارا جہان ہے

گرویدہ جس کے حسن کا سارا جہان ہے کرتے ہیں جس سے عشق وہ اردو زبان ہے اللہ رے زبان کی کیا آن بان ہے اقبالؔ کی ہے روح تو غالبؔ کی جان ہے دلی کا مرثیہ ہو یا دل میں وفور غم دیکھیں کلام میرؔ کو کیا اس کی شان ہے سوداؔ اسی خیال میں دن رات محو تھے ان کا خیال تھا ابھی اردو جوان ہے وہ لطف وہ ...

مزید پڑھیے

راہ جینے کی بتاؤ تو کوئی بات بنے

راہ جینے کی بتاؤ تو کوئی بات بنے حوصلہ دل کا بڑھاؤ تو کوئی بات بنے صرف اظہار محبت سے نہیں کام چلے ہاں اگر ساتھ نبھاؤ تو کوئی بات بنے دور سے دیدۂ امید کو ترساتے ہو جب مجھے پاس بلاؤ تو کوئی بات بنے نہ کرو دور سے دعوائے مسیحائی تم مجھ سے مردے کو جلاؤ تو کوئی بات بنے غیریت اب بھی ...

مزید پڑھیے

حسن جاذب نظر نہ ہو جائے

حسن جاذب نظر نہ ہو جائے حال دل کا دگر نہ ہو جائے ڈر لگا ہے مجھے رقیبوں سے راز دل کی خبر نہ ہو جائے کھل نہ جائے یہ راز عشق کہیں زندگی درد سر نہ ہو جائے وصل گل کی اسی تمنا میں زندگانی بسر نہ ہو جائے جان جاں انتظار میں تیرے شام اپنی سحر نہ ہو جائے دل کو دھڑکا ہے تیری محفل میں غیر ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو مرے دل سے کیا چاہتا ہوں

نہ پوچھو مرے دل سے کیا چاہتا ہوں تمہاری وفا بے وفا چاہتا ہوں دھڑکتا ہے دل اور جگر بھی ہے مضطر ترا حسن میں دیکھنا چاہتا ہوں میں درد محبت کو دل میں چھپا کر پریشاں ہوں اس کی دوا چاہتا ہوں بہت زخم گہرا ہوا جا رہا ہے نگاہوں سے تیری شفا چاہتا ہوں تحمل سے باہر ہے یہ درد میرا بزرگوں کی ...

مزید پڑھیے

پر ہول ہے یہ راہ گزر دیکھتے چلئے

پر ہول ہے یہ راہ گزر دیکھتے چلئے کٹتا بھی ہے یہ کیسے سفر دیکھتے چلئے یہ کشمکش شمس و قمر دیکھتے چلئے آہوں کا ذرا اپنی اثر دیکھتے چلئے عالم میں بہت دھوم نزاکت کی مچی ہے نازک ہے بہت ان کی کمر دیکھتے چلئے حال دل معشوق اور ہم پوچھنے جائیں اپنا ہی فقط زخم جگر دیکھتے چلئے یہ حسن کا ...

مزید پڑھیے

ان کی آمد سے میں شاداں ہو گیا

ان کی آمد سے میں شاداں ہو گیا آتے ہی ہر سو چراغاں ہو گیا دل نے آہستہ کہا مجھ سے یہی اب تو وصل جان جاناں ہو گیا عشق جو اس بے وفا سے ہو گیا دل کے بہلانے کا ساماں ہو گیا حسن جو دیکھا بت بیداد کا جو بھی تھا اس کا ثنا خواں ہو گیا اللہ اللہ حسن کا کہنا ہے کیا مہر و مہ بھی اس سے تاباں ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5743 سے 5858