شاعری

پاسبانوں پاسبانی دیکھ لی

پاسبانوں پاسبانی دیکھ لی ہر نظر کی مہربانی دیکھ لی آئے بولے ہنس دیے پھر چل پڑے چار روزہ زندگانی دیکھ لی اب چمن کا رنگ رنگیں ہو چکا باغباں کی باغبانی دیکھ لی گل کا دامن چاک دیکھا رات کو صبح کو پھر نوحہ خوانی دیکھ لی مالی گلشن کا وہ ظلم و ستم بلبلوں کی بے زبانی دیکھ لی جن لبوں ...

مزید پڑھیے

جادۂ مے پہ گزر خوابوں کا

جادۂ مے پہ گزر خوابوں کا مڑ گیا سیل کدھر خوابوں کا زندگی عظمت حاضر کے بغیر اک تسلسل ہے مگر خوابوں کا ظلمتیں وحشت فردا سے نڈھال ڈھونڈھتی پھرتی ہیں گھر خوابوں کا قریۂ ماہ سے اس بستی تک روز ہوتا ہے گزر خوابوں کا صبح نو روز بھی دل کش ہے عروجؔ اس قدر رنج نہ کر خوابوں کا

مزید پڑھیے

کچھ نہ کیا ارباب جنوں نے پھر بھی اتنا کام کیا

کچھ نہ کیا ارباب جنوں نے پھر بھی اتنا کام کیا دار بہ دار افتاد سے کھیلے زلف بہ زلف آرام کیا ساون شعلے بھڑکے گلشن گلشن آگ لگی کیسا سورج ابھرا جس نے صبح کو آتش نام کیا تنہائی بھی سناٹے بھی دل کو ڈستے جاتے ہیں رہ گیرو کس دیس میں آ کر ہم نے آج قیام کیا قریۂ گل سے دشت بلا تک اہل ہوس کی ...

مزید پڑھیے

خموشی میری لے میں گنگانا چاہتی ہے

خموشی میری لے میں گنگانا چاہتی ہے کسی سے بات کرنے کا بہانا چاہتی ہے نفس کے لوچ کو خنجر بنانا چاہتی ہے محبت اپنی تیزی آزمانا چاہتی ہے مبادا شہر کا رستہ کوئی رہ رہ نہ پا لے ہوا قبروں کی شمعیں بھی بجھانا چاہتی ہے گلابوں سے لہو رستا ہے میری انگلیوں کا فضا کیسی چمن بندی سکھانا ...

مزید پڑھیے

آج یادوں نے عجب رنگ بکھیرے دل میں

آج یادوں نے عجب رنگ بکھیرے دل میں مسکراتے ہیں سر شام سویرے دل میں یہ تبسم کا اجالا یہ نگاہوں کی سحر لوگ یوں بھی تو چھپاتے ہیں اندھیرے دل میں صورت باد صبا قافلۂ یاد آیا زخم در زخم کھلے پھول سے میرے دل میں یاس کی رات کٹی آس کا سورج چمکا پھر بھی چمکے نہ کسی روز سویرے دل میں اک مری ...

مزید پڑھیے

بہ قدر دید نہ تھے تیری انجمن کے چراغ

بہ قدر دید نہ تھے تیری انجمن کے چراغ مری نگاہ فروزاں ہوئی ہے بن کے چراغ ہزار باد حوادث ہزار صرصر غم جلا رہا ہوں مگر عظمت چمن کے چراغ نقوش شہر نگاراں ابھارتے ہی رہے مرے جنوں کے اجالے تری لگن کے چراغ سواد عصر میں فردا کی تابناکی ہے بجھا دیے گئے اندیشۂ کہن کے چراغ ہجوم غم میں ...

مزید پڑھیے

کام بس فاتحہ خوانی سے نہیں ہوتا ہے

کام بس فاتحہ خوانی سے نہیں ہوتا ہے عشق اظہار زبانی سے نہیں ہوتا ہے ہے یہ قرآن عمل کرنے کی دولت یارو نفع بس لفظ معانی سے نہیں ہوتا ہے کچھ عنایت یہاں احباب بھی کر جاتے ہیں سب زیاں دشمن جانی سے نہیں ہوتا ہے کام ہو جاتا ہے بس مصرع اول سے بھی کبھی کام جو مصرع ثانی سے نہیں ہوتا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

آسماں سر پہ اٹھایا بھی نہیں جائے گا

آسماں سر پہ اٹھایا بھی نہیں جائے گا ہاں مگر اس کو بھلایا بھی نہیں جائے گا حوصلہ اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن ہم سے دوسرا عشق نبھایا بھی نہیں جائے گا شکوۂ ظلمت شب خوب کیا جائے گا اک دیا خود کا جلایا بھی نہیں جائے گا خاک اس شخص سے تعبیر پہ اسرار کریں جس سے کچھ خواب دکھایا بھی نہیں جائے ...

مزید پڑھیے

سر میں سودا کوئی باقی نہ جنوں ہے یوں ہے

سر میں سودا کوئی باقی نہ جنوں ہے یوں ہے اب تو آرام ہے راحت ہیں سکوں ہے یوں ہے اس سے ملنے کے بہانے تو بہت ہیں لیکن اس سے ملنا مرے پندار کا خوں ہے یوں ہے ناصحا تجھ کو خبر سب ہے محبت کیا ہے ورنہ یوں ہی نہیں سمجھا تھا کہ یوں ہے یوں ہے ہم ہیں محتاج ہر اک کام کے کرنے میں یہاں رب کا ہر کام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5741 سے 5858