شاعری

دل تو کیا جاں سے گزرنا آیا

دل تو کیا جاں سے گزرنا آیا جی اٹھے لوگ جو مرنا آیا صرف جب تک نہ ہوا دل کا لہو حرف میں رنگ نہ بھرنا آیا ہو گئے سارے سمندر پایاب جب ہمیں پار اترنا آیا فصل گل آئی تو ہر غنچے کو زخم کی طرح نکھرنا آیا جو نفس تھا وہ رہا گرم سفر کب مسافر کو ٹھہرنا آیا اک گل تر کی محبت میں ہمیں کتنے ...

مزید پڑھیے

حجاب کوئی نہیں ہے نقاب کوئی نہیں

حجاب کوئی نہیں ہے نقاب کوئی نہیں مری کھلی ہوئی آنکھوں میں خواب کوئی نہیں ہے بس سکوں ہی سکوں اضطراب کوئی نہیں اس انقلاب کے بعد انقلاب کوئی نہیں حیات عشق میں یہ وقفۂ سکوں کیسا سوال کوئی نہیں ہے جواب کوئی نہیں جہان علم کا یارو عجیب ہے دستور کہ مدرسے تو بہت ہیں نصاب کوئی ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر بام و در کا سناٹا

دیکھ کر بام و در کا سناٹا بول اٹھتا ہے گھر کا سناٹا اے محبت اک آخری آواز پھر تو ہے عمر بھر کا سناٹا کوئی صورت نہ کوئی آئینہ دیدنی ہے نظر کا سناٹا لکھ رہی ہے سحر کے ماتھے پر رات اپنے سفر کا سناٹا کیا یہی ہے اڑان کا موسم عام ہے بال و پر کا سناٹا کس کو آواز دے مسافر غم بے جہت ہے ...

مزید پڑھیے

ترے غموں سے عبارت ہے اب خوشی میری

ترے غموں سے عبارت ہے اب خوشی میری گزر رہی ہے سلیقے سے زندگی میری کبھی جو ذرۂ خاکی کا کوئی ذکر چھڑا نگاہ اٹھ کے ستاروں پہ جم گئی میری یہ اور بات کہ جینے کا لطف آ نہ سکا ترے بغیر بھی گزری ہے زندگی میری وہ کیف ہے کہ اب آپا بھی کوئی ہوش نہیں یہ کس مقام پہ لائی ہے بے خودی میری پلک پلک ...

مزید پڑھیے

نا مکمل ہیں ابھی تکملۂ ذات کریں

نا مکمل ہیں ابھی تکملۂ ذات کریں ان کو دیکھیں تو خود اپنے سے ملاقات کریں آپ آئیں تو ذرا آپ سے کچھ بات کریں ہونٹ سی لیں مگر آنکھوں سے سوالات کریں گردشوں سے یہ کہو رخ نہ کریں گھر کی طرف اب وہ ہم سے سر مے خانہ ملاقات کریں آپ کے بارے میں سوچا تو بہت تھا لیکن اب ہم اس سوچ میں ہیں آپ سے ...

مزید پڑھیے

پھول غم کے کھلے رہے برسوں

پھول غم کے کھلے رہے برسوں درد کے سلسلے رہے برسوں زندگی تھی بہت عزیز مگر زندگی سے گلے رہے برسوں ان گلوں کے نسب کا کیا کہنا دھوپ میں جو کھلے رہے برسوں عشق تھی بات ایک لمحے کی ہونٹ اپنے سلے رہے برسوں دوستوں کی تو بات اپنی جگہ ہم کو خود ہی گلے رہے برسوں ایک تعبیر بھی ملی نہ ...

مزید پڑھیے

زخم درکار ہیں سینے کے لیے

زخم درکار ہیں سینے کے لیے کچھ نہ کچھ چاہیے جینے کے لیے میکدہ تیرا سلامت ساقی آ گئے تھے یوں ہی پینے کے لیے گھٹ کے رہ جاتی ہے آواز کی لو ہر نفس بوجھ ہے سینے کے لیے زندگی کیا ہے یہ کس کو معلوم لوگ بس جیتے ہیں جینے کے لیے کوئی اندیشۂ طوفاں بھی نہیں غم یہ کیا کم ہے سفینے کے لیے میں ...

مزید پڑھیے

جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کے (ردیف .. ی)

جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کے اور جان میں جان آئے ہے آئے سے کسو کے وہ آگ لگی پان چبائے سے کسو کے اب تک نہیں بجھتی ہے بجھائے سے کسو کے بجھنے دے ذرا آتش دل اور نہ بھڑکا مہندی نہ لگا یار لگائے سے کسو کے کیا سوئے پھر غل ہے در یار پہ شاید چونکا ہے وہ زنجیر ہلائے سے کسو کی کہہ دو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5740 سے 5858