شاعری

آ جاؤ

آ جاؤ پانی کے گھرے تال میں پتھر صاف نظر آتے ہیں کھڑکی کے پیچھے چہروں میں سیسہ بھرتا جاتا ہے رات اکیلی آنگن آنگن اپنے رسی پھینکتی ہے اونچی حویلی کے دالان سے پکے بیر اٹھا کر تیرے خال و خط کا بوسہ لیتا ہوں اور ہوا کی دھوپ ملی چادر کے نیچے سو جاتا ہوں جلتا جسم پہاڑ سے دن اور لوہے کی ...

مزید پڑھیے

میرے ہاتھ سوالی ہیں

میرے ہاتھ سوالی ہیں اور میں الٹا کنوئیں کی تہہ میں پانی کے کندھے جھٹک جھٹک کر کرنوں کے یخ بستہ کبوتر ڈھونڈھ رہا ہوں چپ کے رستے لمبے ہو کر تنہا کواڑوں تک پہنچے ہیں کس کی دستک کون آیا ہے کون ہے یہ جو بارش کے انجانے ترنم کی چھتری کے نیچے کھڑا ہے یہ سنسان حویلی اور لکڑی کے پھاٹک کس کا ...

مزید پڑھیے

کلچر

بھیگتی پلکوں کے سو کمروں میں لٹکی آنسوؤں سے تر تصویر گھاس میں اپنے خال و خط کی کالک منہ پہ لیپے پانچ دریاؤں میں زیر کاشت رات کے تنہا شجر پہ فاختہ یا پانچ حرف جو ہوا کی تختیوں پر ان گنت چہروں میں ڈھلتے چاولوں کے بیج ہیں بالشت بھر یا اس سے اونچی فصل موسم کی طرح پھیلی ہوئی اس سے ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

گاڑی گزر گئی دھوئیں اور دھول کی چھتری نے مٹی کو ڈھانپ دیا کبوتر خوش الحان مؤذن کے اعراب جڑے جملوں کے بیچ کابک سے سر ٹکراتا ہے ٹوٹی میز پہ میں نے آنکھیں رکھی ہیں اور گٹھری بن کر کرسی پہ بیٹھا ہوں میں جو اپنے میلے کفن کی سوندھی خوشبو سونگھ چکا ہوں جان گیا ہوں اک یا دو فرلانگ فرار ...

مزید پڑھیے

شاید کہ بہار آئی

بیٹھے بیٹھے سفیدی پہ تاریخی کرنوں کا گھیرا کھلا لمبی شاخوں کے سائے زمیں پر گرے سانس میں پرزہ پرزہ ہوا باس بن کر کھلی میرے کمرے کی کھڑکی سے باہر بہار آ گئی یا شاید تھکن اور اندھیرے میں کروٹ بدلتے ہوئے میں نے سپنے میں دیکھا بہار آ گئی ایک بھولے ہوئے سال کے چاند کی روشنی میرے ...

مزید پڑھیے

چپ

رات کی کالی بارش نے چہروں کی وردی کیچڑ سے بھر دی ہے میرے سینے کے پنجرے میں خون کا گردش کرنے والا لٹو نفرت کے پودوں کے اوپر گھوم رہا ہے تم نے ایسے کانٹے میری شریانوں میں بوئے ہیں ایسی دوپہروں کی زردی میرے گالوں پہ لیپی ہے کہ میں بستر کی شکنوں میں اپنی آنکھیں بو کر روتا ہوں پہلی بار ...

مزید پڑھیے

غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کر

غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کر عزت نفس کسی حال میں برباد نہ کر دل یہ کہتا ہے کہ دے اینٹ کا پتھر سے جواب جو تجھے بھولے اسے تو بھی کبھی یاد نہ کر توڑ دے بند قفس کچھ بھی اگر ہمت ہے اک رہائی کے لئے منت صیاد نہ کر اپنے حالات کو بہتر جو بنانا ہے تجھے عہد رفتہ کو کبھی بھول کے بھی ...

مزید پڑھیے

جیت کر بازیٔ الفت کو بھی ہارا جائے

جیت کر بازیٔ الفت کو بھی ہارا جائے اس طرح حسن کو شیشے میں اتارا جائے اب تو حسرت ہے کہ برباد کیا ہے جس نے اس کا دیوانہ مجھے کہہ کے پکارا جائے آپ کے حسن کی توصیف سے مقصد ہے مرا نقش فطرت کو ذرا اور ابھارا جائے تم ہی بتلاؤ کہ جب اپنے ہی بیگانے ہیں دہر میں اپنا کسے کہہ کے پکارا ...

مزید پڑھیے

کوئی نذر غم حالات نہ ہونے پائے

کوئی نذر غم حالات نہ ہونے پائے اور ہر بات ہو یہ بات نہ ہونے پائے جو بھی صورت ہے عنایت ہے کرم ہے ان کا رائیگاں ان کی یہ سوغات نہ ہونے پائے ان کی تصویر سے ہر لمحہ رہے راز و نیاز منتشر شان خیالات نہ ہونے پائے سخت دشوار ہے پابندی آئین وفا بات تو جب ہے تجھے مات نہ ہونے پائے جان دے ...

مزید پڑھیے

زخم سے واسطہ نہ تھا پہلے

زخم سے واسطہ نہ تھا پہلے پھول ایسا کھلا نہ تھا پہلے اپنے چہرے کا حال کیا کھلتا ہاتھ میں آئنہ نہ تھا پہلے عشق افتاد ناگہانی ہے حادثہ یہ ہوا نہ تھا پہلے ہم نے بھی اک زمانہ دیکھا ہے اتنا قحط وفا نہ تھا پہلے عشق ہم نے بھی تو کیا ہے ضیاؔ وقت اتنا برا نہ تھا پہلے

مزید پڑھیے
صفحہ 5734 سے 5858