شاعری

ایک چھبیلی عید

ایک چھبیلی نئی نویلی سندر پیاری لڑکی نئے چاند کی نورانی کشتی سے نیچے اتری آسمان سے لے کر زمیں تک پھول گرائے اس نے جدھر جدھر سے گزری گھر آنگن مہکائے اس نے اک البیلی نئی نویلی دودھ سی اجلی لڑکی شیر خورمہ اور سوئیاں کھاتی کھلاتی آئی نردھن اور دھنوان سبھی سے ہنستی ہنساتی آئی قدم ...

مزید پڑھیے

اگر ہو آدمیت آدمی میں

ہزاروں سال کی بوڑھی ہے دنیا مگر پھر بھی نئی لگتی ہے دنیا وہی ساگر وہی ان کی روانی وہی پربت وہی ان کی جوانی وہی جنگل وہی اشجار ان کے وہی منظر وہی اسرار ان کے وہی بادل ہزاروں روپ والے چمکتے دن سنہری دھوپ والے وہی دن رات کے منظر سہانے وہی پنچھی وہی ان کے ترانے وہی گلشن وہی ان کی ...

مزید پڑھیے

بہار سب کے لئے

سرمئی پہاڑوں پر یہ ہرے بھرے جنگل شاخ شاخ ہریالی چومتے ہوئے پنچھی چار سو فضاؤں میں زندگی مہکتی ہے پھول مسکراتے ہیں رنگ و نور کی چادر اوڑھ کر ہوا نکلی آسمان روشن ہے دور تک زمیں اپنی بانہہ کھولے ماں جیسی کھیلتے پرندوں کو پیار سے بلاتی ہے تتلیوں کے جھرمٹ سے ایک ایک پگڈنڈی بے نظیر ...

مزید پڑھیے

رات

رات ہماری ماں جیسی ہے نیند ہماری آنکھ میں رکھ کر میٹھے میٹھے خواب دکھائے دور کہیں لے کر اڑ جائے دیس بدیس کی سیر کرائے رنگ برنگے ہلکے بادل بادل اندر بجتی پائل چھم چھم کرتی بوند گرائے بوند بوند میں پھول کھلائے پھول پھول میں خوشبو مہکے خوشبو مہکے دنیا لہکے دنیا لہکے گیت سنائے گیت ...

مزید پڑھیے

سب کی پیاس بجھاؤ

ابر کے ٹکڑے نٹ کھٹ لڑکوں جیسے گھوم رہے ہیں پانی کی بوچھاریں کھا کر پودے جھوم رہے ہیں برکھا رانی بڑی سیانی بادل بادل ڈولے پی ہو پی ہو پنکھ پسارے بن میں کوئل بولے دھیرے دھیرے مینڈک اپنا ساز بجاتے نکلے بھیگی بھیگی شانت فضا میں شور مچاتے نکلے مینڈک راگ سنا تو جھینگر دوڑے دوڑے ...

مزید پڑھیے

نٹ کھٹ چاند

ایک ذرا سا چمکا تھا ابھی یہیں تھا کدھر گیا ذرا جھلک دکھلائی تھی ایک شعاع لہرائی تھی مسجد کے میناروں سے آنگن سے گلیاروں سے کچھ لوگوں نے دیکھا تھا کیا وہ آنکھ کا دھوکا تھا پل بھر سامنے آیا تھا بجلی سا لہرایا تھا دور شفق کی لالی میں کڑوے نیم کی ڈالی میں ہرے بھرے پتوں کے بیچ پھولوں ...

مزید پڑھیے

دسمبر

سردی کھاتے دانت بجاتے آئے دسمبر بابا رنگ برنگے اونی کپڑے لائے دسمبر بابا صبح سلونی گرم چائے کی پیالی لے کر دوڑی کیسا تھر تھر کانپ رہے ہیں ہائے دسمبر بابا ان کی داڑھی چاندی جیسی دھوپ پڑے تو چمکے لیکن نٹکھٹ لڑکی سا چھپ جائے دسمبر بابا دور گگن پر نٹ کھٹ بادل سبھا سجانے بیٹھے اجلے ...

مزید پڑھیے

بادل جھک آئے تھے

بادل جھک آئے تھے آموں کی ڈالی کے نیچے کچی مٹی سوئی ہوئی تھی تیز ہوا سے پتے نیچے گرتے تھے میں تنہا پیڑ کے پاس کھڑا تھا سوچ رہا تھا رخصت ایسی ہوتی ہے سب کچھ دل کی ہانڈی میں سے باہر آ کر بے خوشبو کے پھول کی صورت ہو جاتا ہے راہیں تکتی سپنے سوتی آنکھیں آنسو بھر کر کالر پہ آ جاتی ...

مزید پڑھیے

لاہور کے نام

میں تیرے لیے لایا ہوں پھول پھول جو پانی کی چھت توڑ کے ہم سے آن ملے تھے خوشبو جو مٹی کی کچی پوست سے باہر کنپٹیوں تک پھیلی تھی دل جو خواہش کے بوجھ سے بوجھل ہل ہی نہیں سکتے تھے میں لایا ہوں دل سے اٹھنے والی سرد ہوا کی پھانک زمیں کی خالی مٹھی گیہوں کی گڑیا جنگل جن میں سدا ہی ایک کتاب ...

مزید پڑھیے

کراچی

دھوئیں اور دھول میں کالا گلاب یہاں پر ساتواں در اسم سے محروم بوسے کی ولادت کے لیے سوکھے ہوئے ہونٹوں کی شکنیں برف کی قاشیں زمیں کا بانجھ پن اپنا حصار شنیدہ ناشنیدہ راستوں کی گرم راتیں جسم کے بالوں کا اونی کوٹ سندھ کے دریا کی لہروں کی روانی دو طرف کیلوں کے باغیچے نگاہوں کی بکھرتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5733 سے 5858