شاعری

بے روزگار ہی سہی خوددار میں بھی ہوں

بے روزگار ہی سہی خوددار میں بھی ہوں اپنی رہ حیات میں دیوار میں بھی ہوں دو چار سال اور ہے ناقدریٔ سخن مردہ پرست شہر کا فن کار میں بھی ہوں تشکیک دل میں سر میں جنوں لب پہ گالیاں کیا روح عصر کی طرح بیمار میں بھی ہوں شہر منافقت میں بسر کر رہا ہوں میں لگتا ہے اپنے عہد کا اوتار میں بھی ...

مزید پڑھیے

ہوا کے ہاتھ میں پتھر دبا کر بھیج دیتا ہے

ہوا کے ہاتھ میں پتھر دبا کر بھیج دیتا ہے مرا انعام وہ مجھ کو برابر بھیج دیتا ہے نظر آتا ہے میرا ہاتھ ہر تخریب میں اس کو کوئی تہمت کہیں اٹھے مرے سر بھیج دیتا ہے مجھے بھی اب کسی تعمیر کا سودا نہیں ہوتا اسے بھی ضد ہے بربادی کے منظر بھیج دیتا ہے کھلونوں سے بہل جاتا ہوں یہ معلوم ہے ...

مزید پڑھیے

اگر ہو خوف زدہ طاقت بیاں کیسی

اگر ہو خوف زدہ طاقت بیاں کیسی نوائے حق نہ سنائے تو پھر زیاں کیسی اٹھاؤ حرف صداقت لہو کو گرم کرو جو تیر پھینک نہیں سکتی وہ کماں کیسی انہیں یہ فکر کہ میری صدا کو قید کریں مجھے یہ رنج کہ اتنی خموشیاں کیسی ہوا کے رخ پہ لیے بیٹھا ہوں چراغ اپنا مرے خدا نے مجھے بخش دی اماں کیسی ہوا ...

مزید پڑھیے

غیر آباد علاقے کی فضا کیسی ہے

غیر آباد علاقے کی فضا کیسی ہے دل سے اٹھتی ہے جو رہ رہ کے صدا کیسی ہے میرے پیروں سے لپٹتی ہی رہی موج رواں ریت سے کر نہ سکی مجھ کو جدا کیسی ہے ٹوٹ کر آئی ہے لہرائی ہے چاروں جانب یہ برستی ہی نہیں کالی گھٹا کیسی ہے پتیاں دھوپ میں کمھلا گئیں پھیکے ہوئے رنگ چھاؤں اتری ہی نہیں آب و ہوا ...

مزید پڑھیے

دشت افکار میں سوکھے ہوئے پھولوں سے ملے

دشت افکار میں سوکھے ہوئے پھولوں سے ملے کل تری یاد کے معتوب رسولوں سے ملے اپنی ہی ذات کے صحرا میں سلگتے ہوئے لوگ اپنی پرچھائیں سے ٹکرائے ہیولوں سے ملے گاؤں کی سمت چلی دھوپ دوشالا اوڑھے تاکہ باغوں میں ٹھٹھرتے ہوئے پھولوں سے ملے کون اڑتے ہوئے رنگوں کو گرفتار کرے کون آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

وہ شخص جس نے خود اپنا لہو پیا ہوگا

وہ شخص جس نے خود اپنا لہو پیا ہوگا جیا تو ہوگا مگر کس طرح جیا ہوگا تمہارے شہر میں آنے کی جس کو حسرت تھی تمہارے شہر میں آ کر وہ رو پڑا ہوگا کسی کی یاد کی آہٹ سی ہے در دل پر کسی نے آج مرا نام لے لیا ہوگا وہ اجنبی تری بانہوں میں جو رہا شب بھر کسے خبر کہ وہ دن بھر کہاں رہا ہوگا تمہارے ...

مزید پڑھیے

پنچھیوں کے روبرو کیا ذکر ناداری کروں

پنچھیوں کے روبرو کیا ذکر ناداری کروں پنکھ ٹوٹے ہی سہی اڑنے کی تیاری کروں چھوڑ جاؤں اپنے پیچھے عالم حیرت تمام موت کے پہلو میں چھپ کر شعبدہ کاری کروں ناچتی ہے جنبش انگشت پر وہ فاحشہ زندگی کہہ کر جسے خود سے ریاکاری کروں سبز پودوں کی طرف بڑھنے لگی سرکش ہوا اس کے کپڑے نوچ لوں ...

مزید پڑھیے

پھول سا جسم نہ رستے میں جلایا کیجئے

پھول سا جسم نہ رستے میں جلایا کیجئے میں صنوبر ہوں مری چھاؤں میں آیا کیجئے اور کیا چاہئے اس دور کے انسانوں کو صرف دو چار گھڑی ساتھ بتایا کیجئے آپ ساگر ہیں تو سیراب کریں پیاسے کو آپ بادل ہیں تو مجھ دشت پہ سایا کیجئے آپ سے نور کی خیرات طلب کرتے ہیں بن کے خورشید نہ پھولوں کو جلایا ...

مزید پڑھیے

مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ظلم سہوں کچھ نہ کہوں

مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ظلم سہوں کچھ نہ کہوں حرف حق صرف کتابوں میں پڑھوں کچھ نہ کہوں ہاں وہی ہاتھ مرے جیسوں کا قاتل ہے مگر میں اسی ہاتھ کو مضبوط کروں کچھ نہ کہوں دوسرا کون جسے پیش کروں سر اپنا دشمن جاں ہی سہی قدر کروں کچھ نہ کہوں

مزید پڑھیے

پیار بھرا تہوار

سورج اپنی پچکاری سے کرتا ہے یلغار صبح کے اجلے دامن پہ ہے رنگا رنگ بہار نیلے پیلے لال گلابی رنگوں کی بوچھار جھومیں ناچیں دھوم مچائیں گلیاں اور بازار باجے تاشے سیر تماشے لے کر جاگی بھور رنگ کے اندر رنگ جگائے ہولی چاروں اور مستوں کی ٹولی کے پیچھے ہے مستوں کا شور آج ترنگوں اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5732 سے 5858