میں تیری ہی آواز ہوں اور گونج رہا ہوں
میں تیری ہی آواز ہوں اور گونج رہا ہوں اے دوست مجھے سن کہ میں گنبد کی صدا ہوں جس راہ سے پہلے کوئی ہو کر نہیں گزرا اس راہ پہ میں نقش قدم چھوڑ رہا ہوں میں اپنے اصولوں کا گراں بار اٹھائے ہر وقت ہواؤں کے مخالف ہی چلا ہوں بے مایہ حبابو مجھے دیکھو کہ عدم سے میں سوئے ابد سیل کی صورت میں ...