کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت
کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت آپ اپنے نہیں آپ اپنے بہت راز رکھتے نہ ہم اس تعلق کو گر لوگ روتے بہت لوگ ہنستے بہت دل کی تنہائیوں کا مداوا نہیں گھوم کر ہم نے دیکھے ہیں میلے بہت اس ہی بنیاد پر کیوں نہ مل جائیں ہم آپ تنہا بہت ہم اکیلے بہت جب تھی منزل نظر میں تو رستہ تھا ایک گم ...