یقین کون کرے گا گماں پہ آیا ہوں
یقین کون کرے گا گماں پہ آیا ہوں میں اپنے آپ سے چھپ کر یہاں پہ آیا ہوں مجھے بھی عقل پریشان کرتی رہتی ہے نہیں نہیں سے گزر کر میں ہاں پہ آیا ہوں مجھے وہ دیکھ کے حیران کیوں نہیں ہوگا زمین اوڑھ کے میں آسماں پہ آیا ہوں یہ بات تو ہی بتا کس طرح بتاؤں تجھے میں دل کے راستے تیری زباں پہ آیا ...