خیالوں کے سوئیٹر
گھٹائیں آج بڑھتی جا رہی ہیں دکھانے پربتوں کو رعب اپنا ہواؤں کو بھی ساتھ اپنے لیا ہے کھڑے ہیں تان کر سینے کو پربت ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کہ اب گھیراؤ پورا ہو گیا ہے گرجنے لگ گئی ہے کالی بدلی سنہرے پروتوں کے رنگ پھیکے پڑھ گئے ہیں مٹ میلی ہوئی جاتی ہے اجلی اجلی پنڈر وہیں کچھ دور ...