مٹی تھی کس جگہ کی
بے فیض ساعتوں میں منہ زور موسموں میں خود سے کلام کرتے اکھڑی ہوئی طنابوں دن بھر کی سختیوں سے اکتا کے سو گئے تھے بارش تھی بے نہایت مٹی سے اٹھ رہی تھی خوشبو کسی وطن کی خوشبو سے جھانکتے تھے گلیاں مکاں دریچے اور بچپنے کے آنگن اک دھوپ کے کنارے آسائشوں کے میداں اڑتے ہوئے پرندے اک اجلے ...