روز وحشت کوئی نئی مرے دوست
روز وحشت کوئی نئی مرے دوست اس کو کہتے ہیں زندگی مرے دوست علم احساس آگہی مرے دوست ساری باتیں ہیں کاغذی مرے دوست دیکھ اظہارئیے بدل گئے ہیں یہ ہے اکیسویں صدی مرے دوست کیا چراغوں کا تذکرہ کرنا روشنی گھٹ کے مر گئی مرے دوست ہاں کسی المیے سے کم کہاں ہے مری حالت تری ہنسی مرے ...