شاعری

روز وحشت کوئی نئی مرے دوست

روز وحشت کوئی نئی مرے دوست اس کو کہتے ہیں زندگی مرے دوست علم احساس آگہی مرے دوست ساری باتیں ہیں کاغذی مرے دوست دیکھ اظہارئیے بدل گئے ہیں یہ ہے اکیسویں صدی مرے دوست کیا چراغوں کا تذکرہ کرنا روشنی گھٹ کے مر گئی مرے دوست ہاں کسی المیے سے کم کہاں ہے مری حالت تری ہنسی مرے ...

مزید پڑھیے

گمان توڑ چکا میں مگر نہیں کوئی ہے

گمان توڑ چکا میں مگر نہیں کوئی ہے سرائے فکر میں بیٹھا ہوا کہیں کوئی ہے مرے خیال کو دیتا ہے نو بہ نو چہرے ہے آس پاس کوئی لمس مرمریں کوئی ہے مرا یقین کہ دنیا میں ہوں اکیلا میں صدائے دل مجھے کہتی ہے غم نشیں کوئی ہے تری تباہی میں شامل نہیں ہے غیر کوئی اسے تلاش تو کر مار آستیں کوئی ...

مزید پڑھیے

یہ مت سمجھ کہ ترے ساتھ کچھ نہیں کرے گا

یہ مت سمجھ کہ ترے ساتھ کچھ نہیں کرے گا نظام ارض و سماوات کچھ نہیں کرے گا یہ تیرا مال کسی روز ڈس ہی لے گا تجھے اگر تو اس میں سے خیرات کچھ نہیں کرے گا ابھی پٹاری تو کھولی نہیں مداری نے تو کہہ رہا ہے کمالات کچھ نہیں کرے گا مجھے یقین دلا سب رہے گا ویسا ہی جنون اہل خرابات کچھ نہیں کرے ...

مزید پڑھیے

دل میں لیے اوہام کو اس گھر سے اٹھا میں

دل میں لیے اوہام کو اس گھر سے اٹھا میں خالی کہاں بت خانۂ آذر سے اٹھا میں یوں ہے کہ زبردستی اٹھایا گیا مجھ کو ایسے تو نہیں کوئے ستم گر سے اٹھا میں احباب میں دل کھول کے اب جشن منا لے لے آج ترے صحن معطر سے اٹھا میں اک بوجھ اٹھائے ہوئے آنکھوں میں کٹی شب اک اسم کو پڑھتے ہوئے بستر سے ...

مزید پڑھیے

خوش بخت ہیں آزاد ہیں جو اپنے سخن میں

خوش بخت ہیں آزاد ہیں جو اپنے سخن میں خوش بخت ہیں جو قید ہے نیکی کے چلن میں اس آنکھ نے کیا ہوتا ہوا دیکھ لیا ہے بھونچال سا برپا ہے عجب میرے بدن میں جو کام کرو جب بھی کرو ڈوب کے اس میں ہر ایک تحیر ہے جنوں زاد لگن میں غماز تو کچھ ہوتا ہے عادات کا چہرہ سورج کا تصور بھی تو ہوتا ہے کرن ...

مزید پڑھیے

بپھری لہریں رات اندھیری اور بلا کی آندھی ہے

بپھری لہریں رات اندھیری اور بلا کی آندھی ہے گردابوں نے بھی گھیرا ہے ناؤ بھی ٹوٹی پھوٹی ہے کس نے رکھ ڈالے انگارے دل سی شاخ کی آنکھوں پر وہ کیوں بھولا یہ خوشیوں کے پھول کھلانے والی ہے جس کو تیرا ساتھ ملا وہ خوش نہ رہے کیوں پھولوں سا تیرا تو چھو لینا تک بھی ہجر کے روگ میں شافی ...

مزید پڑھیے

خوشی کے وقت بھی تجھ کو ملال کیسا ہے

خوشی کے وقت بھی تجھ کو ملال کیسا ہے عروج حسن میں نقص کمال کیسا ہے جو ایک دوجے کو چاہیں تو کیوں نہ اپنا لیں یہ دل سے پوچھ کے بتلا خیال کیسا ہے نہیں جو آنے کے سب ان کی راہ تکتے ہیں یہ انتظار کا شہر وبال کیسا ہے ہے جس کے ساتھ جڑے اک ہزار اک خدشے وہ ہجر کیسا ہے حامدؔ وصال کیسا ہے

مزید پڑھیے

دئیے کی لو سے نہ جل جائے تیرگی شب کی

دئیے کی لو سے نہ جل جائے تیرگی شب کی کہ دن کی قدر کا باعث ہے ہر گھڑی شب کی جو دل خراش ہیں کچھ لمحے دن کے لمحوں میں تو دل فروز بھی ہیں ساعتیں کئی شب کی کہاں کے خواب مرے اور کہاں کی تعبیریں مجھے تو سونے نہ دے اب سحر گری شب کی جو وہ نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے پھر حامدؔ عبث ہیں چاند کے ...

مزید پڑھیے

کیا کیا دھرے عجوبے ہیں شہر خیال میں

کیا کیا دھرے عجوبے ہیں شہر خیال میں بیتے خوشی سے دن تو کٹے شب ملال میں شاید کہ شب کی تہہ میں ہے سورج چھپا ہوا شب لگ رہی ہے کھوئی سی دن کے جمال میں کوئی کرے نہ غور تو اس کا قصور ہے اک اک جواب ورنہ ہے اک اک سوال میں کچھ ملتا جلتا عکس بجھاتی تو ہے مگر کب ہو بہ ہو سمایا ہے کوئی مثال ...

مزید پڑھیے

بھڑک اٹھا ہے الاؤ تمہاری فرقت کا

بھڑک اٹھا ہے الاؤ تمہاری فرقت کا نہیں ہے تم پہ اثر پھر بھی کیوں محبت کا معانی ہی تو نہیں کیا بدل گئے اس کے وفا کو نام جو دیتے ہو تم اذیت کا تمہی بتاؤ مرے ہو گے اور کیسے تم علاج عجز بھی نکلا نہیں رعونت کا کسی کو پا لیا تم نے تو چھوڑ کر مجھ کو کوئی علاج تو کر دو مری بھی حسرت کا

مزید پڑھیے
صفحہ 5701 سے 5858