آخری ٹیس آزمانے کو
آخری ٹیس آزمانے کو جی تو چاہا تھا مسکرانے کو یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیں اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسو لوگ ہنستے رہے دکھانے کو زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہے اک دیا رہ گیا جلانے کو جلنے والے تو جل بجھے آخر کون دیتا خبر زمانے کو کتنے مجبور ہو گئے ہوں گے ان ...