کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا
کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا گھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا پلکوں کے بیچ سارے اجالے سمٹ گئے سایہ نہ ساتھ دے یہ وہی مرحلہ ہے کیا میں آندھیوں کے پاس تلاش صبا میں ہوں تم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا ساگر ہوں اور موج کے ہر دائرے میں ہوں ساحل پہ کوئی نقش قدم ...