حریم دل سے نکل آنکھ کے سراب میں آ
حریم دل سے نکل آنکھ کے سراب میں آ مری طرح کبھی میدان اضطراب میں آ پیمبروں کی زبانی کہی سنی ہم نے وہ کہہ رہا تھا کہ میرے بھی انتخاب میں آ سنا ہے آج عماری فلک سے اترے گی مجھے بھی نیند گر آئے تو میرے خواب میں آ تجھے خدائی کا دعویٰ ہے گر تو کم سے کم زمین پر کوئی دن رنگ بو تراب میں ...