سرحدیں
کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرح ایک سے ہیں وہی آنکھیں وہی چہرے وہی دل کس پہ شک کرتے ہو جتنے بھی مسافر ہیں یہاں ایک ہی سب کا قبیلہ وہی پیکر وہی گل ہم تو وہ تھے کہ محبت تھا وطیرہ جن کا پیار سے ملتا تو دشمن کے بھی ہو جاتے تھے اس توقع پہ کہ شاید کوئی مہماں آ جائے گھر کے دروازے کھلے ...