اے میرے وطن کے خوش نواؤ
اک عمر کے بعد تم ملے ہو اے میرے وطن کے خوش نواؤ ہر ہجر کا دن تھا حشر کا دن دوزخ تھے فراق کے الاؤ روؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئے ہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤ تم آئے تو ساتھ ہی تمہارے بچھڑے ہوئے یار یاد آئے اک زخم پہ تم نے ہاتھ رکھا اور مجھ کو ہزار یاد آئے وہ سارے رفیق پا بجولاں سب کشتۂ ...