تمہارے بن اب کے جان جاں میں نے عید کرنے کی ٹھان لی ہے
تمہارے بن اب کے جان جاں میں نے عید کرنے کی ٹھان لی ہے غموں کے ایک ایک پل سے خوشیاں کشید کرنے کی ٹھان لی ہے میں اس کی باتوں کا زہر اپنی خموشیوں میں اتار لوں گا اگر مضر ہے تو میں نے اس کو مفید کرنے کی ٹھان لی ہے تلاش کی شدتوں نے ارض و سما کی سب دوریاں مٹا دیں سو میں نے اب تیری جستجو ...