بس اک تسلسل تکرار قرب و دوری تھا
بس اک تسلسل تکرار قرب و دوری تھا وصال و ہجر کا ہر مرحلہ عبوری تھا مری شکست بھی تھی میری ذات سے منسوب کہ میری فکر کا ہر فیصلہ شعوری تھا تھی جیتی جاگتی دنیا مری محبت کی نہ خواب کا سا وہ عالم کہ لا شعوری تھا تعلقات میں ایسا بھی ایک موڑ آیا کہ قربتوں پہ بھی دل کو گمان دوری ...